یونین کاربائیڈ کے 39 سال پرانے زہریلے کچرے کو جلانے کی تیاری، سخت سکیورٹی انتظامات

Wait 5 sec.

بھوپال گیس سانحے کے 39 سال بعد یونین کاربائیڈ فیکٹری کے زہریلے کیمیکل ویسٹ کو آج مدھیہ پردیش کے پیتم پور میں جلانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ یہاں 350 میٹرک ٹن سے زیادہ کچرا لایا گیا ہے۔ مقامی افراد کے احتجاج کے پیش نظر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ زہریلے کچرے کو جلانے کے لیے خصوصی بھٹیاں (انسنریٹر) استعمال کی جا رہی ہیں، جن کا درجہ حرارت 850 ڈگری سیلسیئس تک لے جایا جائے گا۔ اس پورے عمل کی نگرانی مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) اور مدھیہ پردیش آلودگی کنٹرول بورڈ (ایم پی پی سی بی) کی ٹیم کر رہی ہے۔اس کچرے کو محفوظ طریقے سے جلانے کے لیے کئی احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں۔ کچرے کو 9-9 کلو کے چھوٹے بیگز میں پیک کیا گیا ہے، جن میں آدھا حصہ کیمیکل ویسٹ اور آدھا چونا شامل ہے، تاکہ جلنے کے عمل کو کنٹرول کیا جا سکے۔ انسنریٹر کو گرم کرنے میں 12 گھنٹے لگتے ہیں، اسی لیے اسے گزشتہ رات 10 بجے سے فعال کر دیا گیا تھا۔ اس بھٹی کو مسلسل جلانے کے لیے ہر گھنٹے میں 400 لیٹر ڈیزل استعمال ہوگا۔آج صبح 10 بجے کے بعد کسی بھی وقت اس زہریلے کچرے کو جلانے کا عمل شروع ہو سکتا ہے۔ پہلے مرحلے میں 10 ٹن کچرا جلایا جائے گا، جسے مکمل طور پر تلف کرنے میں تین دن لگیں گے۔ جلنے کے دوران نکلنے والی راکھ، گیس، ٹھوس ذرات اور پانی کو سائنسی طریقے سے ٹھکانے لگایا جائے گا۔ اس کے بعد باقی ماندہ راکھ کو محفوظ طریقے سے لینڈ فل سائٹ میں دفن کر دیا جائے گا۔پیتم پور میں اس عمل کی مخالفت کی جا رہی ہے اور مقامی لوگ ماحولیات پر اثرات کے حوالے سے فکر مند ہیں، تاہم حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ کچرا اب زہریلا نہیں رہا۔ کل 12 کنٹینروں میں سے 5 کنٹینروں سے مختلف نمونے لے کر اسٹوریج یارڈ میں رکھے گئے تھے۔ یہ تمام سرگرمیاں پیتم پور میں واقع رامکی انوائرو فیکٹری میں انجام دی جا رہی ہیں، جہاں سی پی سی بی اور ایم پی پی سی بی کی ٹیم مکمل نگرانی کر رہی ہے تاکہ کسی بھی زہریلے عنصر کے اخراج سے ماحول کو نقصان نہ پہنچے۔