دہلی پولیس نے سائبر کرائم کے تحت ایک بڑے ٹھگی کرنے والے گروہ کو بے نقاب کرتے ہوئے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، جو موبائل ٹاور لگانے کے نام پر لوگوں سے لاکھوں روپے لوٹ رہے تھے۔ گرفتار کیے گئے افراد کی شناخت سرفراز اور منّا سنگھ کے طور پر ہوئی ہے، جو فرضی ویب سائٹس اور گُوگل اشتہارات کے ذریعے سادہ لوح افراد کو دھوکہ دے رہے تھے۔آؤٹر نارتھ ڈسٹرکٹ کی سائبر کرائم پولیس کو اس وقت کامیابی ملی جب پوٹھ خُرد کے رہائشی شکایت گزار سونو نے رپورٹ درج کروائی۔ اس نے بتایا کہ اسے واٹس ایپ اور فون کالز کے ذریعے لالچ دیا گیا کہ اگر وہ اپنے گھر کی چھت پر موبائل ٹاور لگوائے تو ہر مہینے معقول کرایہ ملے گا۔ ٹھگوں نے رجسٹریشن فیس کے طور پر 1,85,650 روپے مانگے، جسے شکایت گزار نے ادا کر دیا، مگر بعد میں کوئی ٹاور نصب نہیں کیا گیا۔شکایت موصول ہونے کے بعد پولیس نے تکنیکی تحقیقات کا آغاز کیا۔ انسپکٹر رمن کمار سنگھ کی سربراہی میں ایک اسپیشل ٹیم تشکیل دی گئی، جس نے موبائل نمبرز اور بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات کی جانچ کی۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ 36 سالہ سرفراز، جو کہ سمَالکھا کا رہائشی اور پیشے سے ویب ڈیولپر ہے، نے یہ جعلی ویب سائٹس تیار کی تھیں، جبکہ 37 سالہ منّا سنگھ، جو پہلے آئی ٹی سیکٹر میں کام کرتا تھا، گُوگل پر اشتہارات دے کر لوگوں کو پھانسنے کا کام کر رہا تھا۔پولیس نے 21 فروری کو چھاپہ مار کر دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ دورانِ تفتیش معلوم ہوا کہ یہ گروہ 50 سے زائد جعلی ویب سائٹس چلا رہا تھا، جن میں ٹاور ویژن ڈاٹ ان جیسی سائٹس شامل تھیں۔ جیسے ہی کسی شکار سے رجسٹریشن فیس حاصل کر لی جاتی، ویب سائٹ بند کر دی جاتی اور فون نمبر بھی بند ہو جاتے۔ پولیس نے ٹھگوں کے قبضے سے دو موبائل فون اور چار لیپ ٹاپ برآمد کیے، جن میں دھوکہ دہی سے متعلق اہم شواہد موجود تھے۔ڈی سی پی ندھین ولسن کے مطابق، ٹیل کام کمپنیاں کبھی بھی موبائل ٹاور لگانے کے لیے کسی فرد کو فون یا واٹس ایپ پر رابطہ نہیں کرتیں، اس لیے اگر کوئی ایسا آفر دے تو فوراً محتاط ہو جانا چاہیے۔عوام کے لیے احتیاطی تدابیر:- کسی نامعلوم ویب سائٹ پر اپنی ذاتی معلومات فراہم نہ کریں۔- کسی بھی مشکوک لنک پر کلک کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کر لیں۔- موبائل ٹاور سے متعلق معلومات صرف مستند ٹیل کام کمپنیوں کی آفیشل ویب سائٹس سے حاصل کریں۔- کسی بھی سائبر فراڈ کی اطلاع فوری طور پر 1930 ہیلپ لائن نمبر پر دیں۔