نوکری کے جھانسے میں فراڈ مرکز تک پہنچنے والے پاکستانی: ’1000 ڈالر کمانے پر دس فیصد کمیشن جبکہ ناکامی پر تشدد ہوتا تھا‘

Wait 5 sec.

'پاکستان میں کہا گیا کہ کمبوڈیا میں ڈیٹا انٹری کا کام ہے، وہاں پہنچے تو بتایا گیا کہ کال سینٹر کا کام ہے اور پھر بتایا کہ لوگوں کو دھوکا دینے کا کام ہے۔‘ پاکستان سے نوکری کے جھانسے میں بیرون ملک لے جائے جانے والے نوجوان کیسے سائبر کرائم کا ارتکاب کرنے والے جرائم پیشہ گروہوں کے چنگل میں پھنس رہے ہیں؟