دہلی اسمبلی انتخاب میں عام آدمی پارٹی کے اراکین اسمبلی کو ایوان سے باہر کرنے کا معاملہ طول پکڑتا جا رہا ہے۔ جمعرات (27 فروری) کو سابق وزیر اعلیٰ دہلی اور موجودہ دہلی اسمبلی اپوزیشن لیڈر آتشی کی قیادت میں تمام عآپ اراکین اسمبلی نے ایوان کے باہر 7 گھنٹے تک زبردست احتجاج کیا۔ آتشی نے اب اس حوالے سے صدر جمہوریہ کو خط لکھ کر ملنے کا وقت مانگا ہے۔ آتشی نے کہا کہ ہم صدر جمہوریہ سے ملاقات کر کے بی جے پی کے غیر جمہوری اقدام کے سلسلے میں اپنی بات رکھیں گے۔ علاوہ ازیں آتشی نے اسے جمہوریت کے لیے یوم سیاہ قرار دیا ہے۔عآپ لیڈر آتشی نے نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’آج کا دن جمہوریت کی تاریخ کا سیاہ دن ہے۔ ملک کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ منتخب اراکین اسمبلی کو ایوان کے دروازے کے باہر روک دیا جائے۔ بی جے پی پریشان کیوں ہے؟ کیونکہ عام آدمی پارٹی بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر کے نعرے لگا رہی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’عآپ اراکین کو اسمبلی سے باہر اس لیے نکالا گیا کہ ہم نے جے بھیم کے نعرے بلند کیے۔ بی جے پی والوں نے حکومت میں آتے ہی تاناشاہی کی تمام حدیں پار کر دی ہیں۔‘‘قابل ذکر ہے کہ منگل (25 فروری) کو دہلی اسمبلی میں لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ کے خطاب میں خلل ڈالنے کے الزام میں عآپ کے 22 اراکین اسمبلی میں سے 21 کو 3 دنوں کے لیے ایوان سے معطل کر دیا گیا تھا۔ صرف ایک رکن اسمبلی امانت اللہ خان کی معطلی نہیں ہوئی تھی کیونکہ وہ اس دن ایوان میں موجود نہیں تھے۔ بی جے پی کے 48 اراکین اسمبلی کے درمیان عآپ کے واحد رکن اسمبلی امانت اللہ خان نے پارٹی کے معطل اراکین اسمبلی کے مسئلہ کو ایوان میں اٹھایا۔ اس پر اسمبلی اسپیکر وجیندر گپتا نے امانت اللہ خان کو ’رول بک‘ سمجھاتے ہوئے کہا کہ ’’ایوان کا مطلب دہلی اسمبلی کا مکمل احاطہ ہوتا ہے۔‘‘ اسپیکر نے آگے کہا کہ ’’رول بک میں لکھا ہے کہ اگر مارشل کسی رکن اسمبلی کو باہر کرتے ہیں تو وہ ایوان سے باہر ہی رہیں گے۔‘‘ اسپیکر کے جواب میں امانت اللہ خان نے کہا کہ ’’ایسا تو کبھی نہیں ہوا، وہ لوگ دھوپ میں بیٹھے ہیں، آپ انہیں اندر بلا لو۔‘‘ پھر اسپیکر وجیندر گپتا نے امانت اللہ خان کو موضوع نہ بدلتے ہوئے صرف سی اے جی رپورٹ پر بولنے کو کہا۔