نئی دہلی: کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے ملک کی موجودہ معاشی صورتحال کو لے کر مودی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت ’گھبراہٹ کی کیفیت‘ میں ہے اور اسے اپنے ہی حامی حلقوں کی جانب سے معاشی پالیسیوں پر سوالات کا سامنا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت معیشت کے بنیادی مسائل حل کرنے کے بجائے عارضی اور نمائشی اقدامات پر انحصار کر رہی ہے۔غیر ملکی سرمایہ کاروں کو واپس لانے کی تیاری میں حکومت، ’کیپیٹل گین ٹیکس‘ کو ہٹانے کا لیا فیصلہ!جئے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں ایک ٹی وی چینل کی خبر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں (ایف پی آئی) کی جانب سے ہندوستانی سرکاری سکیورٹیز میں کی جانے والی سرمایہ کاری پر عائد 12.5 فیصد ’لانگ ٹرم کیپیٹل گینس ٹیکس‘ کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے انکم ٹیکس قانون میں آرڈیننس کے ذریعے ترمیم کرنے پر غور کر رہی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ یہ شرح جولائی 2024 کے مرکزی بجٹ میں مقرر کی گئی تھی۔کانگریس لیڈر کے مطابق اگر حکومت اس طرح کا قدم اٹھاتی ہے تو یہ اس بات کا اعتراف ہوگا کہ معیشت میں سرمایہ کاری کا ماحول کمزور پڑ چکا ہے اور حکومت بیرونی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے ٹیکس میں بڑی رعایتیں دینے پر مجبور ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہندوستانی معیشت کا اصل مسئلہ غیر ملکی سرمایہ کاری نہیں بلکہ پرائیویٹ کارپوریٹ سرمایہ کاری میں سست روی ہے۔ ان کے مطابق ملک کے بڑے کارپوریٹ اداروں کے منافع ریکارڈ سطح پر ہیں، لیکن اس کے باوجود مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کے تناسب سے پرائیویٹ سیکٹر کی سرمایہ کاری میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جو کمپنیاں ملک کے اندر سرمایہ کاری کر سکتی ہیں، ان میں سے کئی بیرون ملک سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہی ہیں یا پھر اپنے منصوبوں کو مؤخر کر رہی ہیں۔The Modi Govt is clearly in panic mode and is under siege from within its ecosystem on the current economic situation.According to a news flash by a TV channel that is plugged into the ruling establishment, the Modi Govt is planning to issue an ordinance amending the Income Tax…— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) June 4, 2026جئے رام رمیش نے کہا کہ آرڈیننس کے ذریعے ٹیکس میں نرمی جیسے اقدامات وقتی سرخیاں تو پیدا کر سکتے ہیں، لیکن یہ معیشت کے بنیادی ڈھانچہ جاتی مسائل کا حل نہیں ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کو ان عوامل پر توجہ دینی چاہیے جو پرائیویٹ سرمایہ کاری کو متاثر کر رہے ہیں۔ کانگریس جنرل سکریٹری نے کہا کہ حقیقی اجرتوں میں جمود، آمدنی اور دولت کی بڑھتے ہوئے عدم مساوات، مختلف شعبوں میں معاشی طاقت کا چند ہاتھوں میں سمٹ جانا اور تفتیشی ایجنسیوں کے مبینہ غلط استعمال سے پیدا ہونے والا خوف کا ماحول پرائیویٹ سرمایہ کاری میں کمی کی بڑی وجوہات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں صنعت کار طویل مدتی سرمایہ کاری کے فیصلے لینے سے گریز کر رہے ہیں۔جئے رام رمیش نے چین سے بڑھتی ہوئی درآمدات کا مسئلہ بھی اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں اٹھایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت کی پالیسیوں کے باعث چین سے درآمدات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے ملکی صنعتوں اور مقامی سرمایہ کاری پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق درآمدی دباؤ نے گھریلو پیداواری شعبے کے لیے مزید مشکلات پیدا کر دی ہیں۔واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں حکومت مسلسل یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ ہندوستان دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشتوں میں شامل ہے، جبکہ اپوزیشن کا موقف ہے کہ معاشی ترقی کے سرکاری اعداد و شمار کے باوجود روزگار، سرمایہ کاری اور عوامی آمدنی جیسے شعبوں میں سنگین چیلنجز برقرار ہیں۔ جئے رام رمیش کا تازہ بیان اسی بحث کو ایک بار پھر مرکزِ توجہ میں لے آیا ہے۔