واشنگٹن (03 جون 2026): امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور ثالثوں کے ذریعے ’’بتدریج زیادہ متحرک‘‘ ہو رہے ہیں۔اگرچہ جنگ کے آغاز میں زخمی ہونے کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای عوامی طور پر منظرِ عام پر نہیں آئے، تاہم مارکو روبیو نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ اب سپریم لیڈر بتدریج زیادہ سرگرمی سے رابطے کرنے لگے ہیں۔سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کی سماعت کے دوران قانون سازوں سے گفتگو کرتے ہوئے روبیو نے کہا ’’ہم نے انھیں عوامی طور پر نہیں دیکھا، اور میرا خیال ہے کہ اس نظام کے متعدد رہنماؤں کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے، اس کے پیشِ نظر عوامی سطح پر نمایاں رہنا شاید اندرونی طور پر ان کے لیے مناسب نہیں سمجھا جاتا۔‘‘انھوں نے مزید کہا ’’تاہم، ایسی نشانیاں موجود ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بتدریج زیادہ سرگرمی سے امور میں شریک ہو رہے ہیں، اگرچہ ان کے تمام پیغامات تحریری شکل میں اور ثالثوں کے ذریعے پہنچائے گئے ہیں۔‘‘علی خامنہ ای کی تدفین اس ماہ کے آخر یا محرم کے آغاز پر؟روبیو نے کہا کہ ایران کا داخلی فیصلہ سازی کا نظام انتہائی مرکزی نوعیت کا معلوم ہوتا ہے۔ ان کے مطابق مذاکرات کاروں کے ذریعے پہنچنے والے پیغامات کو جواب دینے سے پہلے منظوری کے لیے ایک حکومتی کونسل کے پاس بھیجا جاتا ہے۔انھوں نے مزید کہا ’’نظام کے بارے میں ہماری سمجھ، اور جیسا کہ ثالثوں اور خود ایران نے ہمیں بتایا ہے، اس کے مطابق عباس عراقچی اور محمد باقر قالیباف جو پیغام ہم سے لے کر جاتے ہیں یا ہمارے پاس لاتے ہیں، اسے اس کونسل کے سامنے پیش کرنا ہوتا ہے اور آخرکار انہی سے رہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔ اس عمل میں اکثر جواب آنے میں 3 سے 5 دن لگ جاتے ہیں۔‘‘اگرچہ روبیو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ایرانی میڈیا نے منگل کو رپورٹ کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کم از کم گزشتہ چند دنوں سے معطل ہے۔روبیو کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب واشنگٹن اور تہران کئی ماہ کے تنازع کے بعد ایک نازک جنگ بندی کو وسیع تر معاہدے میں تبدیل کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ تنازع 28 فروری کو ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہوا تھا۔ ایرانی حکام کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 3,000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ ایرانی جوابی حملوں میں کم از کم 13 امریکی فوجی بھی مارے گئے ہیں۔تہران نے جوابی کارروائی میں اسرائیل اور خلیج میں امریکا کے اتحادیوں کو نشانہ بنایا، جب کہ آبنائے ہرمز کو بھی بند کر دیا گیا۔ 8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی کے ذریعے جنگ بندی نافذ ہوئی، تاہم بعد ازاں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کسی مستقل معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔ اس کے باوجود تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششیں بدستور جاری ہیں۔