امریکی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپرزنٹیٹیو) نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کو روکنے سے متعلق جنگی اختیارات (وار پاورس) قرار داد کو منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے لیے بڑا سیاسی جھٹکا مانا جا رہا ہے کیونکہ کچھ ریپبلیکن اراکین نے بھی ڈیمو کریٹس کا ساتھ دیا۔ بدھ کے روز ہوئی ووٹنگ میں قرار داد 215 کے مقابلے 208 ووٹوں سے پاس ہوگئی۔ نتائج کا اعلان ہوتے ہی ایوان میں موجود اراکین پارلیمنٹ نے خوشی کا اظہار کیا۔ اس دوران ڈیموکریٹک لیڈر حکیم جیفریز نے کہا کہ یہ مہنگی اور خطرات سے پُر جنگ اب ختم ہونی چاہئے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس جنگ پر امریکی ٹیکس دہندگان کے 100 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ ہوچکے ہیں اور امریکہ کی حالت کمزور ہوئی ہے۔امریکہ نے جنگ مسلط کی، مجبور کیا گیا تو لڑیں گے بھی: ایرانی وزارت خارجہایران اور امریکہ میں بن گئی بات، بغیر کسی ٹیکس کے آبنائے ہرمز پوری طرح کھولنے کا راستہ صاف!یہ چوتھی بار تھا جب ایوان نمائندگان نے ایران جنگ کو محدود کرنے کی کوشش کی اور پہلی بار ایسی قرار داد پاس ہوسکی۔ اس سے پہلے امریکی سینیٹ بھی اسی طرح کی قرار داد کو آگے بڑھا چکی ہے جہاں کچھ ریپبلیکن اراکین نے پارٹی لائن سے الگ رخ اختیار کیا تھا۔ ہاؤس اسپیکر مائیک جانسن نے قرار داد کی مخالفت کی اور کہا کہ صدر ٹرمپ گھریلو مسائل پر پوری طرح توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ٹرمپ عالمی ساتھیوں کے ساتھ مل کر تیل کی تجارت کے لیے اہم آبنائے ہرمز کو پھر سے پوری طرح کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں۔امریکہ کے ایران کے خلاف فوجی مہم میں شامل ہونے کے بعد تیل سپلائی متاثر ہوئی ہے جس سے ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی کا دباؤ بڑھا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے تیل اور قدرتی گیس کی تجارت کی اہم آبی گزر گاہ مانی جاتی ہے۔ اس درمیان امریکی وزیر خارجہ مارک روبیو نے خبردار کیا ہے کہ اگر کانگریس اس طرح کی قرار داد کو منظوری دیتی ہے تو ایران یہ سمجھ سکتا ہے کہ امریکی انتظامیہ کے ہاتھ بندھ گئے ہیں اور وہ اس کے خلاف کوئی مؤثر قدم نہیں اُٹھا سکے گا۔ اس سے کسی ممکنہ سمجھوتے کا امکان بھی کمزور ہوسکتا ہے۔حالانکہ یہ قرارداد فوری جنگ ختم نہیں کرے گی لیکن اسے صدر کی پالیسی کے خلاف کانگریس کی مضبوط سیاسی وارننگ مانا جا رہا ہے۔ اب یہ معاملہ سینیٹ میں آگے بڑھے گا جہاں حتمی فیصلہ لیا جائے گا۔ وہیں امریکہ میں جنگ اور امن سے متعلق معاملوں میں صدر اور کانگریس کے اختیارات کو لے کر بحث بھی تیز ہوگئی ہے۔