ممتا بنرجی کو لگا بڑا دھچکا، فرہاد حکیم نے کولکاتہ کے میئر کے عہدے سے دیا استعفیٰ

Wait 5 sec.

مغربی بنگال میں جاری اتھل پتھل کے درمیان ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) میں بحران گہراتا نظر آ رہا ہے۔ ’آئی اے این ایس‘ پر ذرائع کے حوالے سے شائع خبر کے مطابق کولکاتہ کے میئر اور ٹی ایم سی کے سینئر لیڈر فرہاد حکیم نے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دینے کی خواہش ظاہر کی ہے اور اس کے لیے پارٹی کی سربراہ ممتا بنرجی سے اجازت طلب کی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ممتا بنرجی نے ان کی درخواست کو منظوری بھی دے دی ہے۔ حالانکہ اس تعلق سے اب تک کوئی آفیشیل بیان سامنے نہیں آیا ہے۔فرہاد حکیم کے استعفیٰ کا معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹی ایم سی اپنی سیاسی تاریخ کے سب سے بڑے اندرونی بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کر رہی ہے۔ پارٹی کے اندر بڑی تعداد میں اراکین اسمبلی کھل کر پارٹی سے نکالے گئے رکن اسمبلی رتبرت بنرجی کی حمایت میں آ گئے ہیں اور موجودہ قیادت کے نظام کو چیلنج کر رہے ہیں۔فرہاد حکیم جنہیں ممتا بنرجی کے سب سے قریبی ساتھیوں میں سے ایک مانا جاتا ہے اور جو پارٹی کے سب سے مقبول چہروں میں شامل ہیں، حالیہ دنوں میں سیاسی بحثوں کے مرکز میں رہے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ ان کا وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری کی جانب سے ’نبنا‘ میں منعقدہ انتظامی جائزہ اجلاس میں شامل ہونا رہا، جس نے سیاسی حلقوں میں کئی طرح کی قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے۔اس درمیان ٹی ایم سی کے اندر بغاوت بھی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ تازہ ترین اطلاع کے مطابق 80 میں سے 58 اراکین اسمبلی کے ایک گروپ نے بدھ کو باضابطہ طور پر رتبرت بنرجی کو قانون ساز پارٹی کے نئے لیڈر کے طور پر حمایت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ فرہاد حکیم کے استعفیٰ کی خبر اور ٹی ایم سی اراکین اسمبلی کے اس قدم نے مغربی بنگال کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر یہ بحران گہرا ہوا تو ریاست کی سیاست میں بڑی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ فی الحال سبھی کی نظریں ممتا بنرجی اور ٹی ایم سی قیادت کے اگلے قدم پر مذکور ہیں۔