کئی ممالک کے سنٹرل بینکوں نے اپریل ماہ میں بڑھ چڑھ کر کی سونے کی خریداری، آر بی آئی نے بنائی دوری!

Wait 5 sec.

عالمی صرافہ بازار اور عالمی معیشت میں جاری اتھل پتھل کے درمیان دنیا کے کئی ممالک کے سنٹرل بینکوں کا رجحان ایک بار پھر محفوظ سرمایہ کاری کے لیے سونے کی جانب بڑھ گیا ہے۔ ورلڈ گولڈ کونسل کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق مارچ میں بڑے پیمانے پر سونا فروخت کرنے کے بعد مرکزی بینک اپریل میں دوبارہ خالص خریدار بن گئے۔ اپریل کے دوران مختلف ممالک کے سنٹرل بینکوں نے مجموعی طور پر 17 ٹن خالص سونا خریدا۔ تاہم ہندوستانی سنٹرل بینک آر بی آئی نے سونے کی خریداری سے گریز کیا۔نیشنل بینک آف پولینڈ دنیا کا سب سے بڑا خریدار رہا، جس نے تنہا 14 ٹن سونا خریدا۔ پیپلز بینک آف چائنا نے اپنے ذخائر میں 8 ٹن سونا شامل کیا۔ دسمبر 2024 کے بعد یہ چین کی سب سے بڑی ماہانہ خریداری ہے۔ چین مسلسل 18 ماہ سے سونا خرید رہا ہے، جس کے نتیجے میں اس کا مجموعی ذخیرہ 2,322 ٹن تک پہنچ گیا ہے۔ دوسری طرف چیک جمہوریہ نے مسلسل 38ویں ماہانہ خریداری کرتے ہوئے مزید 2 ٹن سونا اپنے ذخائر میں شامل کیا۔موجودہ عالمی بحران کے دوران ایک جانب دنیا بھر کے مرکزی بینک مسلسل سونا خرید رہے ہیں، جبکہ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے اپریل میں کوئی خریداری نہیں کی۔ آر بی آئی نے 2026 میں اب تک صرف مارچ کے مہینے میں 200 کلوگرام سونا خریدا ہے۔ اس سے قبل اس نے 2025 میں 4.2 ٹن اور 2024 میں ریکارڈ 72.6 ٹن سونا خریدا تھا۔ اس وقت آر بی آئی کے سونے کے ذخائر 880.52 ٹن پر مستحکم ہیں۔بہرحال، جے پی مورگن کے مطابق چین ایک منظم اور طویل مدتی حکمت عملی کے تحت سونا خرید رہا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد امریکی ڈالر پر انحصار کم کرنا ہے تاکہ کسی بحران والی حالت، مثلاً جنگ یا شدید بین الاقوامی کشیدگی، کی صورت میں وہ امریکی پابندیوں سے محفوظ رہ سکے۔ روس-یوکرین جنگ کے بعد امریکہ نے جس طرح روس کے ڈالر ذخائر منجمد کیے تھے، اس سے چین مزید محتاط ہو گیا ہے۔اس درمیان روس نے مسلسل چوتھے مہینے اپریل میں 6 ٹن سونا فروخت کیا اور رواں سال اب تک مجموعی طور پر 22 ٹن سونا بیچ چکا ہے۔ ازبکستان نے اپریل میں ایک ٹن سونا فروخت کیا، تاہم اس سال مجموعی خریداری (24 ٹن) کے لحاظ سے وہ پولینڈ کے بعد دنیا میں دوسرے نمبر پر برقرار ہے۔ مارچ میں سب سے زیادہ سونا فروخت کرنے والے ترکیے کا رویہ اپریل میں تقریباً مستحکم رہا اور اس نے خرید و فروخت کے حوالے سے کوئی نمایاں تبدیلی نہیں دکھائی۔