لندن (04 جون 2026): امریکا اور اتحادی ممالک کی جاسوسی کے الزام پر چین کو وارننگ دی گئی ہے۔امریکا اور اتحادیوں نے چین پر ملازمت کے پلیٹ فارمز کے ذریعے حساس معلومات حاصل کرنے کا الزام عائد کر دیا ہے، جس پر امریکا، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ نے چین کو مشترکہ وارننگ جاری کر دی ہے۔امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل، نیوز ایجنسی بلومبرگ اور میڈیا چینل سی این این کی رپورٹ کے مطابق چین پر الزام لگایا گیا ہے کہ چین جعلی پروفائلز اور نوکریوں کی پیش کش کے ذریعے افراد کو نشانہ بنا رہا ہے، جن افراد کو بھرتی کیا جاتا ہے انھیں ہر رپورٹ کے بدلے چند سو سے لے کر کئی ہزار ڈالر تک ادا کیے جاتے ہیں، اور زیادہ حساس معلومات فراہم کرنے پر مزید رقم کی پیش کش کی جاتی ہے۔فائیو آئیز ایجنسیوں کے مطابق چینی جاسوس خاص طور پر دفاع، خارجہ امور اور انٹیلیجنس کے ماہرین، نیز فوجی اہلکاروں کو نشانہ بنا رہے تھے، جن میں انڈو پیسیفک خطے میں تعینات افراد سمیت صحافی، تھنک ٹینک کے ملازمین، اور وہ لوگ بھی شامل تھے جنھیں سرکاری معلومات یا ڈیٹا تک بالواسطہ رسائی حاصل تھی۔ڈونلڈ ٹرمپ کو دھچکا، اختیارات محدود کرنے کی قرارداد کامیاب ہو گئیروئٹرز کے مطابق امریکا اور برطانیہ سمیت انٹیلی جنس شراکت داری ’’فائیو آئیز‘‘ سے تعلق رکھنے والی سیکیورٹی ایجنسیوں نے بدھ کے روز خبردار کیا ہے کہ چینی جاسوس حساس معلومات تک رسائی رکھنے والے افراد کو بھرتی کرنے کے لیے آن لائن ملازمتوں کے پلیٹ فارمز کا جارحانہ انداز میں استعمال کر رہے ہیں۔’’سیف گارڈنگ آور سیکرٹس‘‘ کے عنوان سے جاری مشترکہ انتباہی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کی فوجی انٹیلی جنس سروسز پیشہ ورانہ نیٹ ورکنگ ویب سائٹس اور آن لائن بھرتی کے مختلف ذرائع استعمال کرتے ہوئے سرکاری ملازمین، فوجی اہلکاروں اور خفیہ معلومات تک رسائی رکھنے والے دیگر افراد کو نشانہ بنا رہی ہیں۔امریکا، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی داخلی سلامتی کی ایجنسیوں نے مشترکہ بیان میں کہا کہ چینی فوجی انٹیلی جنس ادارے بالآخر ایسی عسکری، سیاسی اور اقتصادی معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں جو چین کو فائیو آئیز اتحاد کے مقابلے میں تزویراتی اور حربی برتری فراہم کر سکیں۔اگرچہ ماضی میں انفرادی ممالک کی جانب سے اس نوعیت کے انتباہات جاری کیے جاتے رہے ہیں، تاہم مشترکہ طور پر جاری کیا گیا یہ انتباہ غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب بیجنگ نے ایسے الزامات کو بارہا مسترد کرتے ہوئے انھیں من گھڑت اور بدنیتی پر مبنی بہتان قرار دیا ہے۔لندن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان نے جمعرات کو جاری بیان میں بھی فائیو آئیز اتحاد کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مبینہ ’’چینی جاسوسی کے خطرے‘‘ سے متعلق الزامات مکمل طور پر بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا ہیں۔فائیو آئیز ایجنسیوں نے خبردار کیا کہ صحافی، تھنک ٹینکس کے ملازمین اور وہ افراد بھی خطرے کی زد میں ہیں جنھیں سرکاری ڈیٹا تک جزوی رسائی حاصل ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چینی ایجنسیاں ’’جارحانہ آن لائن بھرتی حکمت عملی‘‘ اختیار کر رہی ہیں، جس کے تحت کامیاب امیدواروں پر دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ وہ ایسے غیر ظاہر شدہ گاہکوں کے لیے خفیہ معلومات فراہم کریں جن کا تعلق چینی حکومت سے ہوتا ہے۔امریکا اس سے قبل بھی خبردار کر چکا ہے کہ چینی انٹیلی جنس ادارے دھوکے اور فریب کے ذریعے موجودہ اور سابق امریکی سرکاری ملازمین کو نشانہ بناتے ہیں، جب کہ گزشتہ نومبر میں برطانوی سیکیورٹی ادارے MI5 نے قانون سازوں کو متنبہ کیا تھا کہ چینی ایجنٹ پارلیمنٹ میں جاسوسی کی کوشش کر رہے ہیں۔