جنگوں کا معمار یا سیاسی ناکامی؟ نیتن یاہو کی مقبولیت زمین بوس، اقتدار خطرے میں

Wait 5 sec.

غزہ سے ایران تک جنگیں، کرپشن مقدمات، عوامی غصہ اور ٹرمپ کی ناراضی — کیا اسرائیل کے سب سے طاقت ور رہنما کا سیاسی سورج غروب ہونے والا ہے؟اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو، جو برسوں خود کو اسرائیل کی سلامتی کا ضامن اور ناقابلِ شکست سیاسی رہنما قرار دیتے رہے، آج اپنی سیاسی زندگی کے شاید سب سے بڑے بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ایک وقت تھا جب ایران کے خوف، سلامتی کے نعروں اور طاقت کے وعدوں کے سہارے نیتن یاہو اسرائیلی سیاست پر چھائے ہوئے تھے، لیکن اب حالات تیزی سے بدلتے دکھائی دے رہے ہیں۔غزہ میں تباہ کن جنگ، لبنان میں بڑھتی کشیدگی، ایران کے ساتھ خطرناک محاذ آرائی، مسلسل عالمی تنقید اور اندرونِ ملک عوامی بے چینی نے ان کی سیاسی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔سات اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد نیتن یاہو نے اسرائیلی عوام سے وعدہ کیا تھا کہ حماس کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے گا، ایران کو پیچھے دھکیل دیا جائے گا اور خطے میں اسرائیل کی برتری دوبارہ قائم کی جائے گی۔تاہم تقریباً تین برس گزرنے کے باوجود نہ حماس مکمل طور پر ختم ہو سکی، نہ حزب اللہ کا وجود مٹایا جا سکا، اور نہ ہی ایران کی حکومت یا اس کے علاقائی اثر و رسوخ کا خاتمہ ممکن ہو سکا ہے۔ اسرائیل کے اندر آج بھی ایک بڑی تعداد سات اکتوبر کی تاریخی سیکیورٹی ناکامی کا براہِ راست ذمہ دار نیتن یاہو کو قرار دیتی ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی اور جنگ نیتن یاہو کے لیے سیاسی طور پر زندگی اور موت کا سوال بن چکی تھی۔ ان کے حامیوں کو امید تھی کہ ایک بڑی فوجی کامیابی ان کی گرتی ہوئی مقبولیت کو سہارا دے گی، لیکن نتائج توقعات کے برعکس رہے۔امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے باوجود ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکا، اس کا میزائل پروگرام برقرار ہے جب کہ خطے میں اس کے اتحادی نیٹ ورکس بھی سرگرم ہیں۔ اسی دوران ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے نیتن یاہو کی کمزور ہوتی سیاسی حیثیت کو مزید نمایاں کر دیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ایک انتہائی تلخ ٹیلیفونک گفتگو ہوئی جس میں ٹرمپ نے اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے غصے میں نیتن یاہو سے کہا ’’تم پاگل ہو گئے ہو‘‘، اور لبنان و ایران سے متعلق اسرائیلی اقدامات پر شدید ناراضی ظاہر کی۔اطلاعات کے مطابق امریکی صدر نے نیتن یاہو پر زور دیا کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔یہ واقعہ اس تاثر کو مزید تقویت دیتا ہے کہ نیتن یاہو نہ صرف اسرائیل کے اندر سیاسی دباؤ کا شکار ہیں بلکہ واشنگٹن میں بھی ان کا اثر و رسوخ پہلے جیسا نہیں رہا۔ دوسری جانب رشوت ستانی، بدعنوانی اور فراڈ سے متعلق مقدمات بدستور ان کا پیچھا کر رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کے لیے اقتدار صرف سیاسی طاقت نہیں بلکہ ذاتی بقا کا مسئلہ بن چکا ہے۔تازہ سیاسی جائزوں اور سرویز کے مطابق اگر آج انتخابات منعقد ہوں تو نیتن یاہو کا اتحاد پارلیمنٹ میں واضح اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں دکھائی دیتا۔ اگرچہ اسرائیل میں آئندہ عام انتخابات اکتوبر 2026 میں متوقع ہیں، لیکن قبل از وقت انتخابات کے مطالبات اور حکومتی اتحاد کے اندر بڑھتے اختلافات نے سیاسی منظرنامے کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ایک وقت تھا جب بنجمن نیتن یاہو کو اسرائیل کا سب سے طاقت ور اور ناقابلِ شکست سیاست دان سمجھا جاتا تھا۔ مگر آج غزہ کی جنگ، لبنان میں کشیدگی، ایران کے ساتھ تصادم، عوامی غصہ، کرپشن مقدمات اور امریکا کے ساتھ بڑھتی ہوئی تناؤ نے ان کی سیاسی طاقت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔اب سوال یہ نہیں کہ نیتن یاہو کمزور ہوئے ہیں یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیل کے سب سے طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والے وزیر اعظم 2026 کے انتخابات تک اپنی سیاسی بقا برقرار رکھ پائیں گے، یا پھر جنگوں کے سائے میں ان کا سیاسی باب اپنے اختتام کے قریب پہنچ چکا ہے؟