واشنگٹن : آپریشن چیک میٹ کے نام سے امریکا میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری کیخلاف سخت کریک ڈاؤن کا آغاز کردیا گیا۔تفصیلات کے مطابق دنیا بھرمیں غیرقانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلئے وبال جان بن گئے۔اس سلسلے میں امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن نے وفاقی امیگریشن قوانین کے نفاذ کے لیے "آپریشن چیک میٹ” کے تحت ایک سخت کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے، جس کی زد میں بڑی تعداد میں بھارتی شہری آئے ہیں۔امریکی حکام کا کہنا تھا کہ اس آپریشن کے تحت گرفتار کیے گئے 36 ٹرک ڈرائیورز میں سے کم از کم 30 افراد کا تعلق بھارت سے ہے۔بھارتی جریدے ‘ٹائمز آف انڈیا’ نے تصدیق کی ہے کہ ان میں سے متعدد افراد کے پاس درست ڈرائیونگ لائسنس تک موجود نہیں تھے۔امریکی یوما سیکٹر کے قائم مقام چیف پٹرول ایجنٹ ڈسٹن کاڈل کا کہنا ہے کہ بغیر دستاویزات کے ایسے غیر قانونی ڈرائیورز عوامی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں۔ ان تمام افراد کے خلاف امریکی قانون کے تحت کارروائی کرتے ہوئے انہیں امریکا سے نکالنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔صرف امریکا ہی نہیں، بلکہ دنیا کے دیگر کئی بڑے ممالک بھی جعلی دستاویزات اور فراڈ کی بنیاد پر بڑی تعداد میں بھارتی شہریوں کو ملک بدر کر چکے ہیں:بھارتی حکام کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق، سال 2021 سے 2025 کے دوران دنیا کے 52 مختلف ممالک سے 1 لاکھ 71 ہزار 150 بھارتی شہریوں کو ڈی پورٹ کیا گیا۔سعودی عرب، کینیڈا اور امریکا سمیت بیشتر ممالک نے حالیہ سالوں میں ویزا فراڈ اور غیر قانونی رہائش پر بھارتیوں کے خلاف سخت ترین ایکشن لیا ہے۔عالمی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کے ‘شائننگ انڈیا’ کے دعوؤں کے برعکس، اتنی بڑی تعداد میں بھارتی شہریوں کا غیر قانونی طریقوں سے ملک سے بھاگنا حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے، مختلف ممالک میں ریاست مخالف سرگرمیوں اور سنگین جرائم میں بھارتی تارکینِ وطن کا ملوث ہونا اب عوامی سلامتی کے لیے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔