کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے سونے کی ریفائننگ اور زیورات کے کاروبار سے وابستہ مشہور کمپنی راجیش ایکسپورٹس کے خلاف سامنے آئے مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے معاملے پر مودی حکومت اور سرکاری اداروں کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی) کی 3 جون 2026 کی عبوری رپورٹ میں کمپنی سے متعلق انتہائی سنگین انکشافات کیے گئے ہیں، جنہوں نے سرمایہ کاروں اور مالیاتی اداروں کے کردار پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔SEBI ने 3 जून 2026 की अपनी अंतरिम रिपोर्ट में सोने की रिफाइनिंग और ज्वेलरी कारोबार से जुड़ी एक हाई-प्रोफाइल कंपनी राजेश एक्सपोर्ट्स से जुड़े एक बेहद बड़े घोटाले का आरोप लगाया है। SEBI का कहना है कि वित्त वर्ष 2020/21 से 2024/25 तक पांच वर्षों की अवधि में राजस्व के आंकड़ों को गलत…— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) June 4, 2026جئے رام رمیش کے مطابق سیبی نے اپنی عبوری رپورٹ میں الزام لگایا ہے کہ مالی سال 21-2020 سے 25-2024 تک 5 برسوں کے دوران راجیش ایکسپورٹس نے اپنی آمدنی (ریونیو) کے اعداد و شمار کو مبینہ طور پر غلط طریقے سے پیش کیا۔ کانگریس لیڈر کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں جس رقم کا ذکر کیا گیا ہے، وہ تقریباً 15 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ سکتی ہے، جو ایک حیرت انگیز اور تشویش ناک معاملہ ہے۔کانگریس جنرل سکریٹری نے کہا کہ اگرچہ سیبی کی تحقیقات ابھی جاری ہے اور حتمی رپورٹ کا انتظار ہے، لیکن ابتدائی نتائج ہی کئی اہم سوالات کھڑے کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ صرف ایک کمپنی کا معاملہ نہیں بلکہ مالیاتی نگرانی کے پورے نظام کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ کانگریس لیڈر نے خاص طور پر لائف انشورنس کارپوریشن آف انڈیا (ایل آئی سی) کے کردار پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ ایل آئی سی کے پاس راجیش ایکسپورٹس میں تقریباً 10.8 فیصد حصص موجود ہیں، جو کسی بھی بڑی کمپنی میں ایک قابل ذکر سرمایہ کاری تصور کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف بینکوں کی بھی کمپنی میں نمایاں مالی شمولیت یا ایکسپوژر بتایا جا رہا ہے۔سی بی ایس ای کی نئی سہ لسانی پالیسی پر کانگریس کا حملہ، جئے رام رمیش نے وزیر تعلیم سے استعفیٰ کا کیا مطالبہجئے رام رمیش نے سوال کیا کہ اگر کمپنی میں اتنی بڑی سرکاری سرمایہ کاری موجود تھی تو پھر ایل آئی سی اس مبینہ بڑے مالیاتی فراڈ یا بے ضابطگی کو بروقت کیوں نہ پکڑ سکی۔ ان کے مطابق یہ بات مزید تشویش پیدا کرتی ہے کہ ایک ایسے ادارے، جو کروڑوں پالیسی ہولڈرز کے پیسے کا محافظ سمجھا جاتا ہے، نے مبینہ طور پر اتنی بڑی مالی بے ضابطگی کے اشاروں کو نظر انداز کیسے کر دیا۔ انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ کیا ایل آئی سی کی جانب سے راجیش ایکسپورٹس میں اتنی بڑی حصہ داری خریدنے کے پیچھے کوئی سیاسی دباؤ یا حکم موجود تھا؟ کانگریس لیڈر نے اشارہ دیا کہ اس معاملے میں حکمراں پارٹی کے ’ایکو سسٹم‘ کے ممکنہ کردار کی بھی جانچ ہونی چاہیے۔جئے رام رمیش کا کہنا ہے کہ اس پورے معاملے میں شفافیت اور جوابدہی انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اس کا تعلق عوامی سرمائے، سرمایہ کاروں کے اعتماد اور مالیاتی اداروں کی ساکھ سے ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سیبی کی تحقیقات کو مکمل آزادی کے ساتھ آگے بڑھایا جائے اور اگر کسی بھی سطح پر بے ضابطگی یا سیاسی مداخلت سامنے آتی ہے تو ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔