آکانکشا کی موت خودکشی نہیں، مودی جی کے بدعنوان سسٹم کی دین ہے: راہل گاندھی

Wait 5 sec.

’’آکانکشا ڈاکٹر بن کر ملک اور سماج کی خدمت کرنا چاہتی تھی۔ آکانکشا کے والد کسان ہیں۔ بیٹی کے ڈاکٹر بننے کے خواب کے لیے کسان کریڈٹ کارڈ پر 3 لاکھ روپے کا قرض لیا، اور ناگپور میں خود باورچی کی ملازمت کر لی تاکہ بیٹی وہاں کوچنگ کر سکے۔ ایک والد نے جو کر سکتا تھا، سب کیا۔ پھر نیٹ پیپر لیک ہوا۔ امتحان رَد ہوا۔ اس غیر یقینی میں آکانکشا ہمیں چھوڑ کر چلی گئی۔‘‘ یہ جذباتی تبصرہ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے مدھیہ پردیش کی رہنے والی آکانکشا چترویدی کا خودکشی نوٹ سامنے آنے کے بعد کیا ہے۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ نے اس خودکشی واقعہ کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کے بدعنوان سسٹم کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔आकांक्षा डॉक्टर बनकर देश और समाज की सेवा करना चाहती थी। आकांक्षा के पिता किसान हैं। बेटी के डॉक्टर बनने के सपने के लिए किसान क्रेडिट कार्ड पर ₹3 लाख का कर्ज़ लिया। और नागपुर में खुद कुक की नौकरी कर ली, ताकि बेटी वहाँ coaching कर सके।एक पिता ने जो कर सकता था, सब किया।फिर NEET… https://t.co/yaIHayXfrG— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) June 4, 2026سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری کردہ پوسٹ میں راہل گاندھی نے نہ صرف آکانکشا کی خودکشی پر اپنا شدید افسوس ظاہر کیا ہے، بلکہ پی ایم مودی کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’آکانکشا کی موت خودکشی نہیں، مودی جی کے ایک بدعنوان، ٹوٹے ہوئے سسٹم کی دین ہے۔ اور دھرمیندر پردھان جی؟ آج بھی کرسی پر ہیں۔ پھر وہی کمیٹی، وہی ٹرانسفر، وہی جانچ۔ نہ اصلاح، نہ انصاف۔‘‘اس سوشل میڈیا پوسٹ میں راہل گاندھی نے وزیر اعظم مودی سے مخاطب ہوتے ہوئے صاف لفظوں میں لکھا ہے کہ ’’مودی جی، کرسی ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتی، آتی جاتی رہتی ہے۔ لیکن آپ نے 12 سالوں میں تعلیمی نظام کو جس حد تک برباد کیا ہے، اس کی قیمت ہندوستان کی ایک پوری نوجوان نسل ادا کر رہی ہے۔‘‘ اس پوسٹ میں راہل گاندھی نے انگریزی نیوز پورٹل ’این ڈی ٹی وی‘ کی اس رپورٹ کا لنک بھی شیئر کیا ہے، جس میں آکانکشا کے ذریعہ لکھے گئے خودکشی نوٹ کی تفصیل موجود ہے۔ اس خودکشی نوٹ میں آکانکشا نے اپنے والدین سے مخاطب ہوتے ہوئے کئی ایسی باتیں لکھی ہیں جو آنکھیں نم کر دیتی ہیں۔ اس نے والدین کو بتایا کہ اب اس کے پاس پھر سے نیٹ امتحان دینے کی ہمت نہیں ہے۔