دہلی کے مالویہ نگر علاقے میں ایک ریسٹورنٹ میں پیش آئے ہولناک آتشزدگی کے واقعے میں 21 افراد کی موت کے بعد دہلی پولیس نے غیر ارادی قتل اور بھارتیہ نیائے سنہتا کی دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے، جبکہ دہلی کی میئر پرویش واہی نے پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی جانچ کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔میئر نے نگم آیوکت کو خط لکھ کر واقعے کی تفصیلی جانچ کرانے اور تین دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر تحقیقات کے دوران کسی افسر یا ملازم کی غفلت، لاپروائی یا مشتبہ کردار سامنے آیا تو اس کے خلاف قواعد کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔حادثہ اس وقت پیش آیا جب ریسٹورنٹ میں بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔ اچانک آگ بھڑکنے کے بعد وہاں افراتفری مچ گئی اور لوگ جان بچانے کے لیے عمارت سے باہر نکلنے کی کوشش کرنے لگے۔ واقعے کے بعد مجموعی طور پر 47 افراد کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ ان میں 21 افراد جانبر نہ ہو سکے، 17 زخمی ہیں جبکہ 9 افراد کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 17 غیر ملکی شہری شامل ہیں۔ ان کا تعلق لائبیریا، نائجیریا، موزمبیق اور بنگلہ دیش سے بتایا گیا ہے۔ پولیس نے ہوٹل کے مالک کی شناخت لوکیش بجاج کے طور پر کی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ہوٹل تین شراکت داروں کے ذریعے چلایا جا رہا تھا اور ان کے شہر میں دیگر ہوٹل اور گیسٹ ہاؤس بھی موجود ہیں۔تحقیقاتی ایجنسیاں ہوٹل کی ملکیت، انتظامی ڈھانچے اور حفاظتی ضوابط پر عمل درآمد کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہیں۔ ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ واضح نہیں ہو سکی، تاہم حفاظتی معیارات کی خلاف ورزی کے امکان کو بھی جانچ کا حصہ بنایا گیا ہے۔اسپتالوں کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق میکس اسپتال میں 39 افراد کو لایا گیا تھا، جن میں 18 افراد مردہ حالت میں پہنچے۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق 15 مریض انتہائی نگہداشت وارڈ میں زیر علاج ہیں اور ان میں سے 8 کو وینٹی لیٹر پر رکھا گیا ہے۔آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں 13 افراد لائے گئے، جن میں بعض افراد عمارت سے چھلانگ لگانے کے باعث زخمی ہوئے تھے۔ اسپتال نے تین لاشوں کو برنس اینڈ پلاسٹک سرجری شعبے کے حوالے کرنے کی بھی تصدیق کی ہے۔ادھر ٹراما سینٹر کے مطابق زخمیوں میں دہلی پولیس کے 10 اہلکار بھی شامل ہیں، جن میں پانچ ہیڈ کانسٹیبل اور پانچ کانسٹیبل ہیں۔ یہ اہلکار امدادی کارروائی کے دوران سب سے پہلے عمارت میں داخل ہوئے تھے۔ پولیس، فائر سروس اور دیگر ریسکیو اداروں کے سینئر افسران موقع پر موجود ہیں اور واقعے کی ہر پہلو سے جانچ جاری ہے۔