لندن (04 جون 2026): برطانیہ نے پناہ گزینوں کی عمر کے تعین کے لیے اے آئی ٹیکنالوجی متعارف کرانے کا فیصلہ کر لیا۔برطانوی وزارت داخلہ کے مطابق آئندہ سال سے ایک جدید اے آئی نظام آزمائشی بنیاد پر استعمال کیا جائے گا جو سرحد پر لی گئی تصاویر کا تجزیہ کر کے کسی شخص کی عمر کا اندازہ لگائے گا۔اس اقدام کا مقصد ایسے بالغ تارکین وطن کی نشان دہی کرنا ہے جو خود کو کم عمر ظاہر کر کے پناہ کے نظام سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں بچوں کے روپ میں آنے والے بالغ تارکین وطن کی نشان دہی کے لیے اے آئی ٹیکنالوجی کا استعمال اگلے سال سے شروع کیا جائے گا، اس مقصد کے لیے ایک سافٹ ویئر کمپنی کو ٹیکنالوجی تیار کرنے اور اس کی آزمائش کا ٹھیکا دے دیا گیا ہے۔امریکا اور اتحادی ممالک نے چین کو مشترکہ وارننگ جاری کر دیبرطانوی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی سے ایسے بالغ تارکین وطن کی شناخت آسان ہو جائے گی جو نظام کو دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ وزارت کے مطابق ابتدائی آزمائشوں میں اس ٹیکنالوجی کی کارکردگی اور درستگی کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔تاہم انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے حکومت سے اس منصوبے کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسے غیر ثابت شدہ ٹیکنالوجی قرار دیا ہے، جو ان کمزور اور غیر محفوظ بچوں کے قانونی تحفظات کو نقصان پہنچا سکتی ہے جن کے وہ مستحق ہیں۔بغیر سرپرست کے برطانیہ پہنچنے والے کم عمر تارکین وطن کو مقامی کونسلوں کی جانب سے معاونت فراہم کی جاتی ہے اور انھیں عام پناہ گزین رہائش گاہوں یا ہوٹلوں کی بجائے نگہداشت کے نظام میں رکھا جاتا ہے۔ایسے بچوں کو خصوصی قانونی تحفظات حاصل ہوتے ہیں، جن کی بدولت ان کے لیے پناہ کی درخواست کا عمل نسبتاً آسان ہو جاتا ہے اور ملک میں طویل عرصے تک قیام کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔اس سافٹ ویئر کے استعمال کا فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب گزشتہ چند برسوں کے دوران چھوٹی کشتیوں کے ذریعے آبنائے انگلش عبور کر کے برطانیہ پہنچنے اور پناہ کی درخواست دینے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جون 2025 کو ختم ہونے والے سال کے دوران برطانیہ میں ایک لاکھ 11 ہزار 84 افراد نے پناہ کی درخواست دی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 14 فی صد زیادہ ہے۔مارچ 2026 کو ختم ہونے والے سال میں خود کو بچے ظاہر کرنے والے 6 ہزار 400 سے زائد تارکین وطن کی عمر کا تعین کیا گیا، جن میں سے 43 فی صد دراصل بالغ افراد نکلے۔ گزشتہ سال برطانوی حکومت کے آزاد امیگریشن انسپکٹر کی رپورٹ میں ایسے واقعات بھی سامنے آئے تھے جن میں بالغ افراد کو غلطی سے بچے قرار دیا گیا، جب کہ بعض کم عمر بچوں کو بالغ تصور کر لیا گیا تھا۔رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ کسی ’’سو فی صد درست‘‘ طریقہ کار کی عدم موجودگی میں عمر کے بعض تخمینے غلط ہونا ناگزیر ہیں، جو خاص طور پر اس وقت تشویش کا باعث بنتے ہیں جب کسی بچے کو اس کے قانونی حقوق اور تحفظات سے محروم کر دیا جائے۔ برطانوی حکومت نے گزشتہ سال اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اے آئی پر مبنی چہرے سے عمر کا اندازہ لگانے والی ٹیکنالوجی استعمال کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔اس کے بعد سے وزارت داخلہ اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے امکانات کا جائزہ لے رہی تھی اور اسی ہفتے اختر کمپیوٹرز لمیٹڈ کو اس منصوبے پر عمل درآمد کا نیا معاہدہ دیا گیا۔ معاہدے کے تحت ٹیکنالوجی کو مزید جانچا اور بہتر بنایا جائے گا، جس کے بعد اسے 2027 کے وسط میں عملی طور پر نافذ کیا جائے گا۔ تین سالہ اس معاہدے پر 3 لاکھ 22 ہزار پاؤنڈ لاگت آئے گی۔