ووٹ چوری: بی جے پی کے اتحادی بھی نشانے پر، نتیش، چندرابابو اور چراغ پاسوان کے خلاف غصہ

Wait 5 sec.

ملک میں انتخابی بے ضابطگیوں اور ’ووٹ چوری‘ کے الزامات کے خلاف اپوزیشن کے احتجاج کا دائرہ اب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اتحادیوں تک بھی پہنچ گیا ہے۔ پیر، 12 اکتوبر کو دہلی میں ’انڈیا‘ اتحاد کے ’دہلی چلو مارچ‘ کے دوران مظاہرین نے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار، تلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) کے سربراہ چندرابابو نائیڈو اور لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) کے رہنما چراغ پاسوان کو بھی نشانہ بنایا۔ مظاہرین کے ایک گروپ نے ان تینوں رہنماؤں کی تصاویر والے پوسٹر پر ضربیں لگا کر بی جے پی کی قیادت والے قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کے خلاف اپنے غصے کا اظہار کیا۔بارہ کھمبا روڈ پر جمع ہزاروں مظاہرین نے انتخابی بے ضابطگیوں کے معاملے پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ احتجاج کے دوران بی جے پی کے اتحادیوں کے خلاف سامنے آنے والا غصہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ اپوزیشن اب انتخابی عمل پر اٹھائے گئے سوالات کے لیے صرف بی جے پی ہی نہیں، بلکہ اس کی اتحادی جماعتوں کو بھی ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کر رہی ہے۔مظاہرے میں شامل ایک شخص نے کہا کہ اگر ان اتحادی جماعتوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کی حمایت نہ کی ہوتی تو ’چور‘ حکومت اب تک گر چکی ہوتی۔ مظاہرہ کر رہے ایک دوسرے شخص نے نتیش کمار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کبھی خود کو مودی کا سیاسی حریف پیش کیا تھا اور انہیں وزیر اعظم کے عہدے کے ممکنہ امیدوار کے طور پر بھی دیکھا جاتا تھا۔مظاہرین کے مطابق، نتیش کمار نے اقتدار کی خاطر بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرکے اپنی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ احتجاج میں یہ اندیشہ بھی ظاہر کیا گیا کہ مستقبل میں بی جے پی بہار میں نتیش کمار کی جماعت جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کو کمزور کر کے اس کی سیاسی جگہ پر قبضہ کر سکتی ہے۔2024 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی ’اب کی بار، 400 پار‘ کا نعرہ دینے کے باوجود صرف 240 نشستیں جیت سکی تھی۔ یہ تعداد لوک سبھا میں سادہ اکثریت کے لیے درکار 272 نشستوں سے 32 کم تھی۔ اس کے بعد بی جے پی نے اپنے اتحادیوں کی حمایت سے مرکز میں حکومت تشکیل دی اور نریندر مودی تیسری مرتبہ وزیر اعظم بنے۔اس حکومت کو برقرار رکھنے میں چندرابابو نائیڈو کی ٹی ڈی پی، نتیش کمار کی جے ڈی یو اور چراغ پاسوان کی لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) کا اہم کردار ہے۔ 2024 کے انتخابات میں ٹی ڈی پی نے 16، جے ڈی یو نے 12 اور ایل جے پی (رام ولاس) نے 5 نشستیں حاصل کی تھیں۔ اس طرح ان تینوں جماعتوں کے مجموعی 33 ارکان پارلیمنٹ حکمراں اتحاد کی پارلیمانی طاقت کا اہم حصہ ہیں۔تاہم، یہی حمایت ان جماعتوں کے لیے سیاسی مشکل بھی پیدا کر رہی ہے۔ ایک طرف ان کی پارلیمانی تعداد انہیں حکومت میں اہمیت دیتی ہے تو دوسری طرف بی جے پی کی قیادت والی حکومت کی مسلسل حمایت کے باعث انہیں اپوزیشن کی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اپوزیشن انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں کے معاملے پر پورے حکمراں اتحاد کو جواب دہ ٹھہرانا چاہتی ہے۔چراغ پاسوان کے بعض بیانات نے بھی این ڈی اے کے اندر ممکنہ اختلافات کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے۔ 10 اکتوبر کو انہوں نے نوجوانوں کو دہلی پہنچنے سے روکنے کی کوششوں پر سوال اٹھائے تھے۔ احتجاج سے قبل عائد پابندیوں اور ٹرینوں کی منسوخی کے تناظر میں انہوں نے پوچھا تھا کہ آخر کتنی ٹرینیں روکی جا سکتی ہیں، کتنی سفری سہولتیں متاثر کی جا سکتی ہیں اور کتنی سڑکیں بند کی جا سکتی ہیں؟چراغ پاسوان کا مؤقف تھا کہ نوجوانوں کو اپنے مسائل اور خدشات اٹھانے سے غیر معینہ مدت تک نہیں روکا جاسکتا۔ بہار کی سیاست پر نظر رکھنے والوں کے مطابق، ان کے بیانات سے این ڈی اے کے اندر انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) اور پیپر لیک کے خلاف احتجاج سے نمٹنے کے طریقوں پر اختلافات کی جھلک ملتی ہے۔نتیش کمار اور چندرابابو نائیڈو کے معاملے میں بھی یہی سیاسی صورت حال اہم ہے۔ دونوں رہنماؤں کی جماعتیں پارلیمنٹ میں قابل ذکر نمائندگی رکھتی ہیں، لیکن ان کی حمایت بی جے پی کی زیر قیادت حکومت کے لیے بھی اہم ہے۔ دہلی کے علاوہ بہار میں بھی نتیش کمار اور چراغ پاسوان کی جماعتوں کو احتجاج اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اپوزیشن کی کوشش ہے کہ ووٹ چوری کے خلاف مہم کو وسیع کرتے ہوئے حکمراں اتحاد کی تمام اہم جماعتوں کو اس معاملے پر جواب دہ بنایا جائے۔مظاہرین کی جانب سے بی جے پی کے اتحادی رہنماؤں کو نشانہ بنانا اس بات کی علامت ہے کہ انتخابی جواب دہی کے مطالبے کو اب حکومت کی تشکیل اور اس کے اتحادیوں کی حمایت سے بھی جوڑا جارہا ہے۔ تاہم، فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ اس احتجاج کے نتیجے میں این ڈی اے کے اندر کوئی بڑا سیاسی فیصلہ یا تبدیلی سامنے آئے گی۔حکمراں اتحاد میں اتحادی جماعتوں کی اہمیت اپنی جگہ برقرار ہے۔ اس لیے اصل سوال یہ ہے کہ کیا اپوزیشن انتخابی بے ضابطگیوں کے خلاف عوامی احتجاج کو بی جے پی کے اتحادیوں کی سیاسی حکمت عملی میں تبدیلی کا سبب بنا پائے گی، یا یہ غصہ فی الحال احتجاجی مظاہروں تک ہی محدود رہے گا۔