نئی دہلی: کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دپکے اور آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئسا) کی قومی صدر نیہا بورا کو دہلی پولیس کی جانب سے حراست میں لیے جانے کے بعد معاملہ طول پکڑتا جا رہا ہے۔ دونوں تنظیموں نے پولیس کی کارروائی پر سوالات اٹھاتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ حراست میں لیے گئے رہنماؤں سے رابطہ نہیں ہو پا رہا ہے اور انہیں وکلا و ساتھیوں سے ملنے کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی ہے۔ تمل ناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے بھی دونوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔سی جے پی نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ دہلی پولیس ابھیجیت دپکے کو کسی نامعلوم مقام پر لے گئی ہے اور ان سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ پارٹی کے مطابق، دپکے کو وکلا سے بات کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی ہے۔تنظیم نے سوال اٹھایا کہ حکومت نوجوانوں کے ساتھ دہشت گردوں جیسا سلوک کیوں کر رہی ہے۔ سی جے پی نے کہا کہ نوجوان بھی ہندوستان کے برابر کے شہری ہیں اور انہیں آئین کے تحت حاصل تمام حقوق اور تحفظ ملنا چاہیے۔ پارٹی نے دعویٰ کیا کہ دپکے ترنگا ہاتھ میں لے کر گھر سے نکلے تھے۔ اس نے سوال کیا کہ ترنگا لے کر چلنا جرم کیسے ہو سکتا ہے اور دہلی پولیس سے ان کے ٹھکانے کے بارے میں جواب طلب کیا۔آئسا نے بھی ایکس پر اپنی قومی صدر نیہا بورا کو حراست میں رکھے جانے پر تشویش ظاہر کی۔ تنظیم نے دعویٰ کیا کہ نیہا بورا کو منگول پوری میں واقع اینٹی نارکوٹکس ٹاسک فورس کے دفتر میں تنہا رکھا گیا ہے۔ آئسا کے مطابق، رات تقریباً آٹھ بجے تک ان سے رابطہ نہیں ہو سکا تھا۔تنظیم نے الزام لگایا کہ نیہا بورا سے ملاقات کے لیے پہنچنے والے ان کے ساتھیوں کو روک دیا گیا اور سادہ لباس میں موجود سات سے آٹھ افراد انہیں اندر جانے نہیں دے رہے تھے۔ آئسا نے ان کی صورت حال اور ٹھکانے کے بارے میں وضاحت طلب کی۔تمل ناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے بھی ایکس پر پوسٹ کرکے پوچھا کہ ابھیجیت دپکے اور نیہا بورا کہاں ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دونوں کو ان کے ٹھکانے کی اطلاع دیے بغیر حراست میں رکھنا غیر قانونی اور غیر انسانی ہے۔ اسٹالن نے مرکزی حکومت سے دونوں کو فوری رہا کرنے اور پُرامن مظاہروں کو دبانے کی کوششیں بند کرنے کا مطالبہ کیا۔واضح رہے کہ دہلی پولیس نے جمعہ کو ابھیجیت دپکے کو اس وقت حراست میں لیا تھا، جب وہ کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک میں شام پانچ بجے ہونے والی مجوزہ ’ترنگا سبھا‘ میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔ اس پروگرام کا اعلان انہوں نے پارٹی کے شریک کنوینر سورَو داس اور آشوتوش رانکا کی گرفتاری کے خلاف کیا تھا۔دپکے کی حراست کے چند منٹ بعد آئسا کی قومی صدر نیہا بورا کو بھی منڈی ہاؤس کے قریب اس وقت حراست میں لیا گیا، جب وہ آئسا اور دیگر بائیں بازو کی تنظیموں کے کارکنوں کے ساتھ سی جے پی کے ’لہرا دو ترنگا‘ مظاہرے میں شرکت کے لیے جا رہی تھیں۔دہلی پولیس اس سے قبل دپکے کو دو نوٹس جاری کرکے سینٹرل پارک میں جلسہ منعقد نہ کرنے کی ہدایت دے چکی تھی۔ نوٹس میں کہا گیا تھا کہ نئی دہلی میونسپل کونسل (این ڈی ایم سی) نے پروگرام کی اجازت نہیں دی ہے اور مقام پر امتناعی احکامات نافذ ہیں۔ پولیس نے ان احکامات کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کی وارننگ بھی دی تھی۔