دہلی ہائی کورٹ نے ’اینالاگ‘ پنیر کے خلاف دائر مفاد عامہ کی عرضی پر نوٹس جاری کرتے ہوئے مرکزی حکومت اور ایف ایس ایس اے آئی سے جواب طلب کیا ہے۔ عرضی میں قومی راجدھانی میں مبینہ طور پر پنیر کے طور پر پیش یا فروخت کی جانے والی ڈیری اینالاگ اور نان ڈیری مصنوعات کے خلاف فوڈ سیفٹی معیارات کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس نتن واسودیو سامبرے اور جسٹس سنجے شرما کی ڈویژن بنچ نے مرکزی حکومت، فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی)، دہلی حکومت اور اس کے فوڈ سیفٹی ڈپارٹمنٹ سے جواب طلب کیا ہے۔Delhi High Court Seeks Centre, FSSAI's Response On PIL Against 'Analogue Paneer'@fssaiindia https://t.co/inUsoREfg7— Live Law (@LiveLawIndia) October 14, 2026سماعت کے دوران عرضی گزار کی جانب سے پیش ہوئے وکیل نے کہا کہ جب کوئی صارف ہوٹل یا ریسٹورنٹ میں پنیر کا آرڈر دیتا ہے تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ ڈش ڈیری مصنوعات سے بنی ہوگی، نہ کہ اینالاگ سے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے آج صارف کے پاس یہ جاننے کا کوئی طریقہ نہیں ہے کہ ڈش دودھ سے بنی مصنوعات پر مشتمل ہوگی یا اس میں مختلف اجزا سے تیار کردہ اینالاگ استعمال کیا گیا ہے۔ وکیل نے کہا کہ یہ پنیر کی نقل ہو سکتی ہے۔ یہ پنیر جیسی دکھائی دیتی ہے اور اس کا ذائقہ بھی پنیر جیسا ہوتا ہے، لیکن اس کی اصل نوعیت جاننے یا ظاہر کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔مہاراشٹر حکومت کا بڑا فیصلہ، ’نان ڈیری پنیر‘ پر عائد کی مکمل پابندی، خلاف ورزی کرنے پر جیل اور بھاری جرمانہ کا التزامعدالت کے یہ پوچھنے پر کہ کن قانونی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے، وکیل نے فوڈ پروڈکشن معیارات اور فوڈ ایڈیٹیوز سے متعلق 2011 کے ایف ایس ایس اے آئی ضوابط کا حوالہ دیا۔ وکیل نے کہا کہ پنیر ایک ایسی مصنوعات ہے جس میں پروٹین کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جبکہ اینالاگ میں صرف کاربوہائیڈریٹس ہوتے ہیں اور ان میں کوئی غذائی قدر نہیں ہوتی۔ تاہم وکیل نے نوراتری اور دسہرہ کے تہواروں کا حوالہ دیتے ہوئے عبوری راحت کی درخواست کی اور کچھ نمونوں کی جانچ کا حکم دینے کی اپیل کی، لیکن عدالت نے بدھ کو کوئی حکم جاری نہیں کیا۔اتراکھنڈ: چاردھام یاترا کے عقیدت مندوں کی صحت سے کھلواڑ، پنیر میں صابن اور مصالحہ جات میں رنگوں کی ملاوٹعرضی میں متعلقہ افسران کو فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ 2006 اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد و ضوابط کی پابندی یقینی بنانے کی ہدایت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ موجودہ فوڈ سیفٹی نظام کے تحت پنیر ایک معیاری ڈیری مصنوعات ہے، جبکہ ڈیری اینالاگ میں ایسے اجزا ہو سکتے ہیں جو مکمل طور پر یا جزوی طور پر دودھ کے علاوہ دیگر ذرائع سے حاصل کیے گئے ہوں۔ عرضی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اعتراض ہر قانونی ڈیری اینالاگ پر نہیں ہے، بلکہ ان مصنوعات پر ہے جنہیں ان کی اصل نوعیت ظاہر کیے بغیر پنیر کے طور پر فروخت، سپلائی یا پیش کیا جا رہا ہے۔دیوریا میں جعلی پنیر بنانے والی فیکٹری کا پردہ فاش، پام آئل اور ہائیڈروجن پیرو آکسائیڈ برآمداس کے علاوہ، مفاد عامہ کی عرضی میں مہاراشٹر، گجرات، پنجاب اور چھتیس گڑھ میں اینالاگ یا نان ڈیری پنیر سے متعلق اقدامات کا ذکر کیا گیا ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ موجودہ قانونی نظام افسران کو ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والی مصنوعات کے خلاف کارروائی کا اختیار دیتا ہے۔ عرضی میں خاص طور پر پنجاب کے فوڈ سیفٹی افسران کے ایک حکم کا حوالہ دیا گیا ہے، جس کے تحت ایک مقررہ مدت کے لیے اینالاگ یا نان ڈیری پنیر پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ دیگر ریاستوں کے افسران کی جانب سے جاری کیے گئے ریگولیٹری آرڈر کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔