جلد سابق وزیر اعظم ہو جائیں گے مودی، نائب صدر استعفی دے سکتے ہیں تو گیانیش کمار کیوں نہیں؟ سچن پائلٹ

Wait 5 sec.

کانگریس کے جنرل سیکریٹری سچن پائلٹ نے الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری اور آزادی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ادارے کے کام کاج پر تشویش صرف حزب اختلاف کو نہیں بلکہ پورے ملک کو ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی جلد ہی سابق وزیر اعظم ہو جائیں گے۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے بارے میں پائلٹ نے کہا کہ وہ بہت جلد اپنی ساکھ کھو دیں گے۔ایک انٹرویو میں پائلٹ نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کے مطالبے کا ذکر کیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر جگدیپ دھنکھڑ نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے سکتے ہیں تو چیف الیکشن کمشنر کیوں نہیں؟ پائلٹ کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری پر اٹھنے والے سوالات کا جواب حکمراں جماعت کے ترجمان دے رہے ہیں، جو پہلے کبھی نہیں ہوا۔انہوں نے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے طریقۂ کار پر بھی اعتراض کیا۔ پائلٹ کے مطابق پہلے تقرری کی سلیکشن کمیٹی میں وزیر اعظم، لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور چیف جسٹس آف انڈیا شامل ہوتے تھے۔ قانون میں تبدیلی کے بعد چیف جسٹس کی جگہ ایک مرکزی وزیر کو شامل کر لیا گیا، جس سے ان کے بقول حکومت کو کمیٹی میں فطری طور پر دو ایک کی اکثریت حاصل ہو گئی۔ووٹروں کی فہرستوں میں نام شامل اور خارج کرنے کے عمل پر بات کرتے ہوئے پائلٹ نے الزام لگایا کہ اس کام کی ذمہ داری انتخابی رجسٹریشن افسران کی ہوتی ہے، لیکن ان کے اختیارات کم کیے گئے اور فیصلے مرکزی سطح پر ہونے لگے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 13.3 کروڑ سے زیادہ ووٹروں کے نام دانستہ طور پر عارضی طور پر فہرستوں سے نکالے گئے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب تقریباً 300 منتخب ارکان پارلیمنٹ الیکشن کمیشن کے سامنے اپنا موقف رکھنے گئے تو انہیں ملاقات کا وقت نہیں دیا گیا۔پائلٹ نے کہا کہ کانگریس کی جدوجہد محض کسی انتخاب میں جیت یا ہار کا معاملہ نہیں، بلکہ آئندہ نسلوں کا انتخابی عمل پر اعتماد برقرار رکھنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کی قیادت کا احتساب کرنے اور خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق موجودہ نظام ایک مخصوص سیاسی ایجنڈے کے تحت کام کر رہا ہے۔سپریم کورٹ میں اپوزیشن رہنماؤں کی درخواستوں کے بارے میں پائلٹ نے کہا کہ کانگریس کو عدلیہ پر پورا بھروسا ہے اور سپریم کورٹ آخری اتھارٹی ہے۔ انہوں نے احتجاج اور عدالت سے رجوع کرنے کو جمہوریت میں شہریوں کا بنیادی حق قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کارروائی یا لاٹھی چارج سے شہریوں اور نوجوانوں کی آواز دبائی نہیں جا سکتی۔نیٹ امتحان اور پرچہ لیک کے معاملات کا حوالہ دیتے ہوئے پائلٹ نے کہا کہ عوامی دباؤ کے باعث حکومت اور اس وقت کے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو ان مسائل پر توجہ دینا پڑی۔ کانگریس کے سینئر رہنماؤں کے بارے میں مختصر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے سونیا گاندھی کو محنت سے احترام حاصل کرنے والی شخصیت کہا، جبکہ راہل گاندھی کو ایسا رہنما قرار دیا جس پر سب کی نظر رہنی چاہیے۔