’سینٹرل آرمڈ پولیس فورس‘ (سی اے پی ایف) کی تعیناتی میں توسیع کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ دہلی پولیس نے وزارت داخلہ کو خط لکھ کر 20 اکتوبر تک سی اے پی ایف کی تعیناتی جاری رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دہلی میں حساس مقامات پر ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر حفاظتی انتظامات برقرار رکھنا ضروری ہے۔ موصولہ اطلاع کے مطابق دہلی میں سی اے پی ایف کی کل 301 کمپنیوں کی تعیناتی کو منظوری دی گئی تھی۔ ان میں سے 221 کمپنیوں کو 6 اکتوبر اور 80 کمپنیوں کو 8 اکتوبر کو منظوری دی گئی تھی۔ دہلی پولیس نے 12 اکتوبر کی مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد بھی 273 کمپنیوں کو راجدھانی میں تعینات رکھنے کی درخواست کی ہے۔ یہ مطالبہ سی جے پی اور دیگر تنظیموں کے ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر کیا گیا ہے۔نوجوانوں کے احتجاجی مظاہروں اور دیگر تنظیموں کے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر دہلی پولیس نے سی اے پی ایف کی تعیناتی میں مزید توسیع کا مطالبہ کیا ہے۔ دہلی پولیس نے بھیم آرمی، طلباء تنظیموں اور دیگر سیاسی تنظیموں کے احتجاج کے خدشے کا بھی ذکر کیا ہے۔ اس کے علاوہ خط میں کہا گیا ہے کہ مظاہرین کے ممکنہ نشانے پر جنتر منتر، الیکشن کمیشن، پارلیمنٹ ہاؤس اور انڈیا گیٹ جیسے مقامات ہو سکتے ہیں۔ وہیں خط میں وزراء کے دفاتر اور رہائش گاہوں کے باہر بھی احتجاج کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ دہلی پولیس نے قانونی نظم و نسق برقرار رکھنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے وزارت داخلہ سے 20 اکتوبر تک سی اے پی ایف کی تعیناتی برقرار رکھنے کی درخواست کی ہے۔دراصل دہلی میں سی اے پی ایف کی کل 301 کمپنیوں کی تعیناتی کو منظوری دی گئی تھی۔ ان میں سے 221 کمپنیوں کو 6 اکتوبر اور 80 کمپنیوں کو 8 اکتوبر کو منظوری ملی تھی۔ حالانکہ 80 اضافی کمپنیوں میں سے 28 کمپنیاں 12 اکتوبر تک دہلی پولیس کو رپورٹ نہیں کر پائی تھیں۔ ایسے میں راجدھانی میں سیکورٹی فورسز کی دستیابی اور تعیناتی کے حوالے سے بھی چیلنج درپیش تھا۔ دہلی میں الیکشن کمیشن میں مبینہ بے ضابطگیوں اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کو لے کر مسلسل احتجاج جاری ہے۔ گزشتہ روز انڈیا اتحاد کے لیڈران نے سڑکوں پر اتر کر احتجاج کیا تھا۔ اس کے علاوہ آج صبح ایک بار پھر جنتر منتر پر نوجوان تنظیموں کے لیڈران نے احتجاج کرنے کی کوشش کی، جس کے بعد پولیس نے کئی افراد کو حراست میں لے لیا۔