اینٹی ڈرگ کارکن پرویندر جھوٹا کا قاتل گرفتار، 24 گھنٹوں میں پولیس نے کی کارروائی

Wait 5 sec.

پنجاب کے مانسا میں اینٹی ڈرگ کارکن پرویندر جھوٹا کے قاتل کو پنجاب پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ واردات منگل کے روز ایک میڈیکل اسٹور میں انجام دی گئی تھی، جس کے نتیجے میں گولی لگنے کی وجہ سے پرویندر جھوٹا کی موت ہو گئی تھی اور دیگر 4 افراد زخمی ہو گئے تھے۔ یہاں دکان کے مالک سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا تھا، جس نے مبینہ طور پر اسی صبح وہاں سے منشیات خریدی تھیں۔ اسی بات کو لے کر دونوں کے درمیان بحث ہوئی اور تنازعہ کے دوران فائرنگ بھی ہو گئی۔ قتل کے بعد دکان کا مالک موقع سے فرار ہوگیا تھا، حالانکہ پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا ہے۔پرویندر جھوٹا مبینہ منشیات فروشوں سے سوال کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر لائیو ویڈیو بناتے تھے۔ رپورٹ کے مطابق واردات سے قبل میڈیکل اسٹور کے مالک اشونی کمار سے سامنا ہوا تھا۔ پرویندر جھوٹا اس شخص پر ’سنتھیٹک ڈرگس‘ فروخت کرنے کا الزام لگا رہے تھے۔ اس معاملے کی ویڈیو سامنے آئی تھی، جس میں ملزم کو پستول سے دھمکاتے ہوئے اور پھر گولی چلاتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔ پرویندر جھوٹا نے اپنی موت سے کچھ دنوں قبل مانسا میں مبینہ غیر قانونی دواؤں کی فروخت کی جانچ کے لیے ’سی بی آئی‘ سے بھی اپیل کی تھی۔منگل کے روز قصورواروں کی گرفتاری کے لیے پرویندر جھوٹا کے اہل خانہ اور ان کے حمایتی دھرنے پر بیٹھے تھے، ان لوگوں نے انتظامیہ سے بات چیت کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ اس حملے میں 4 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کی شناخت 65 سالہ بلتیج سنگھ، 42 سالہ کلویندر سنگھ، 24 سالہ ہیپی سنگھ اور 30 سالہ گوبند سنگھ کے طور پر ہوئی ہے۔ ان میں سے 2 افراد کی حالت انتہائی نازک بتائی جا رہی ہے۔ انہیں بہتر علاج کے لیے بھٹنڈہ ریفر کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اس واردات سے قبل بھی مختلف اضلاع میں اینٹی ڈرگ کمیٹیوں سے وابستہ اور منشیات کے کاروبار کی مخالفت کرنے والوں کی موت کے معاملے سامنے آ چکے ہیں۔پنجاب میں منشیات کے خلاف مہم چلانے والے پرویندر سنگھ کا قتل، میڈیکل اسٹور مالک نے  ماری گولیمئی 2026 میں پھگواڑہ میں آر ٹی آئی ایکٹوسٹ اور وکیل سمرنجیت سنگھ کا گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ اطلاع کے مطابق پولیس نے ابتدائی جانچ میں ان کے چچا زاد بھائی کے ساتھ لین دین کے تنازعہ کو قتل سے جوڑ دیا تھا اور دیگر پہلوؤں پر بھی جانچ کی گئی تھی۔ حالانکہ ان کے قتل اور منشیات مخالف مہم کے درمیان براہ راست تعلق قائم کرنے کے لیے دستیاب رپورٹوں میں کافی شواہد نہیں ملے۔ اس لیے اس معاملے کو منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف آواز اٹھانے کی وجہ سے ہونے والے قتل کے طور پر شمار کرنا درست نہیں ہوگا۔