’کیا ان کا گناہ ترنگا لہرانا تھا؟‘ سورو داس اور آشوتوش رانکا کو 5 روزہ عدالتی حراست میں تہاڑ بھیجنے پر ابھجیت دپکے کا سوال

Wait 5 sec.

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے والے جین-زی طبقہ کی قیادت کر رہے ابھجیت دپکے نے سورو داس اور آشوتوش رانکا کو تہاڑ جیل بھیجے جانے پر سوال اٹھائے ہیں۔ انھوں نے پوچھا ہے کہ آخر دونوں نے غلطی کیا کی تھی؟ انھوں نے سوال کیا کہ ’’کیا جنتر منتر پر ترنگا لہرانے کی کوشش کرنا گناہ تھا؟‘‘#BREAKING Delhi’s Special Executive Magistrate Court remands CJP leaders Saurav Das and Ashutosh Ranka to five days of judicial custody. They were detained over allegations of entering Jantar Mantar a day after it was de-notified as a protest site. @Cockroachisback… pic.twitter.com/VA18RjhF2s— Live Law (@LiveLawIndia) October 14, 2026دراصل سورو داس اور آشوتوش رانکا کو 5 دنوں کی عدالتی حراست میں بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا، جس کے بعد انھیں تہاڑ جیل لے جایا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق سورو اور آشوتوش نے بی این ایس ایس کی دفعہ 163 کی دوبارہ خلاف ورزی کی ہے۔ پولیس نے انھیں غلطی دہرانے کا ملزم بتاتے ہوئے ان کے پچھلے رویہ کا حوالہ دیا۔ پولیس نے یہ بھی بتایا کہ دونوں نے ضمانتی بانڈ کی شرائط کو توڑا ہے، جس کے بعد عدالت نے انھیں 5 دنوں کی عدالتی ھراست میں تہاڑ جیل بھیج دیا ہے۔اس معاملہ میں ابھجیت دپکے نے اپنا سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ جاری کی ہے۔ اس پوسٹ میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’’آشو اور سورو کو 5 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔ ان کی غلطی؟ جنتر منتر پر ترنگا لہرانا۔‘‘ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اور دہلی اسمبلی میں حزب اختلاف کی قائد آتشی نے بھی سورو اور آشوتوش کے خلاف کارروائی کی تنقید کی ہے۔ انھوں نے بھی سوال کیا ہے کہ آخر ان کا گناہ کیا تھا؟Ashu and Saurav have been sent to 5 days judicial custody.Their fault? Unfurling tricolour at Jantar Mantar.Show some guts, @narendramodi. If you’re so determined to crush dissent, have the courage to officially declare an Emergency instead of hiding behind these cowardly…— Abhijeet Dipke (@abhijeet_dipke) October 14, 2026قابل ذکر ہے کہ سورو داس اور آشوتوش رانکا کے ساتھ ساتھ اجنکیا شندے کو بھی دہلی پولیس نے گزشتہ روز گرفتار کیا تھا۔ منگل کے روز یہ کارروائی اس وقت ہوئی تھی جب سورو داس، آشوتوش رانکا اور اجنکیا شندے بیریکیڈنگ والے جنتر منتر علاقہ میں داخل ہوئے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے بازی کی۔ آج ایس ای ایم کورٹ نے سورو اور آشوتوش کو 5 دنوں کی عدالتی حراست میں جیل بھیجنے کا فیصلہ سنایا، جبکہ اجنکیا کو پولیس نے ’پیس بانڈ‘ بھروانے کے بعد چھوڑ دیا۔