شام: انار کی فصل نے شامیوں کو مشکل میں ڈال دیا

Wait 5 sec.

ادلب: شام کے شمال مغربی علاقے درکوش میں اس سال انار کی فصل اچھی ہونے کی توقع ہے، لیکن کسانوں کے لیے یہ خوش خبری کم اور پریشانی زیادہ بن گئی ہے۔پیداوار، پیکنگ اور نقل و حمل کے بڑھتے اخراجات، کم قیمتوں اور بیرونِ ملک فروخت کے محدود مواقع نے کسانوں کی آمدنی کو شدید دباؤ میں ڈال رکھا ہے۔عرب نیوز کے مطابق درکوش میں انار محض ایک پھل نہیں، بلکہ ہزاروں لوگوں کے روزگار کا اہم ذریعہ ہے۔ مقامی محکمہ توسیعِ زراعت کے مطابق، یہاں انار کے باغات 250 ہیکٹر سے زیادہ رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں، جب کہ علاقے کے 70 فی صد سے زائد کسانوں کا انحصار اسی فصل پر ہے۔انار کی لاگت نے کمر توڑ دیزرعی نگران محمد دادا کے مطابق، ایک کلوگرام انار کی پیداوار پر تقریباً 50 شامی پاؤنڈ، یعنی رپورٹ کے مطابق 0.41 ڈالر، خرچ ہوتے ہیں۔ کیڑے مار ادویات، مزدوری، پیکنگ اور نقل و حمل کے اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں، جب کہ فروخت کی موجودہ قیمتیں ان اخراجات کو پورا کرنے کے لیے بھی کافی نہیں۔کسانوں کا مطالبہ ہے کہ انھیں کھاد اور کیڑے مار ادویات رعایتی نرخوں پر فراہم کی جائیں تاکہ بڑھتی لاگت کا بوجھ کچھ کم ہو سکے۔انار فروخت کریں تو کہاں؟مسئلے کا ایک بڑا سبب منڈیوں تک محدود رسائی ہے۔ برآمدی راستے کم ہونے کے باعث کسان اپنی پوری پیداوار بیرونِ ملک نہیں بھیج سکتے، جب کہ مقامی منڈیاں بھی تمام انار خریدنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔تاجر سامر بکرو کے مطابق، انار کو دمشق اور شام کے دوسرے صوبوں تک پہنچانا بھی مہنگا پڑتا ہے۔ صرف ایک گاڑی کرائے پر لینے کا خرچ تقریباً 130 ڈالر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اضافی پیداوار فروخت کرنے کے لیے برآمد کے مزید راستے کھولنا ضروری ہیں، کیوں کہ فصل ذخیرہ کرنے کی سہولتیں بھی محدود ہیں۔انار سے شیرہ اور جوسدرکوش میں انار کی کاشت ایک دیرینہ روایت ہے۔ مقامی کسان محمد شریف کے مطابق، انار کی بعض اقسام سے گاڑھا شیرہ اور جوس تیار کیا جاتا ہے، جس سے فصل کے زیادہ حصے کو استعمال میں لانے اور مصنوعات میں تنوع پیدا کرنے کا موقع ملتا ہے۔کاشت کار نیما ادیب نیما کے مطابق، علاقے میں انار کی 5 بڑی اقسام کاشت کی جاتی ہیں: ناب الجمل، عصفوری، الحلو، اللبن اور فرنچ۔ ابتدائی اقسام کی برداشت ستمبر کے وسط سے اکتوبر کے اوائل تک جاری رہتی ہے۔کسانوں کا مطالبہزرعی حکام کھیتوں میں جا کر کسانوں کو فصل کی برداشت، پیکنگ اور کیڑوں و پھپھوندی سے پیدا ہونے والی بیماریوں پر قابو پانے کے طریقے بتا رہے ہیں۔ تاہم کسانوں کے لیے اصل چیلنج صرف اچھی فصل اگانا نہیں، بلکہ اسے مناسب قیمت پر فروخت کرنا بھی ہے۔ان کا مطالبہ ہے کہ زرعی مداخل سستی کی جائیں، سرد خانے قائم کیے جائیں اور نئی مقامی و بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی فراہم کی جائے۔درکوش کے انار کے باغات میں فصل پک رہی ہے، لیکن کسانوں کے سامنے سوال یہ ہے کہ جب پیداوار اچھی ہو، مگر اسے منافع بخش قیمت پر فروخت کرنے کے راستے محدود ہوں، تو اس محنت کا فائدہ آخر کس کو ملے گا؟