لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے دہلی میں احتجاج کے دوران حراست میں لیے گئے طلبہ کے ساتھ پریس کانفرنس کی۔ اس دوران طلبہ نے دہلی پولیس پر مار پیٹ اور بربریت کے سنگین الزامات عائد کیے۔ طلبہ نے دعویٰ کیا کہ احتجاج کے دوران انہیں حراست میں لے کر بسوں میں بھرا گیا اور تھانے میں لے جا کر پیٹا گیا۔ کچھ طلبہ نے الزام عائد کیا کہ کچھ پولیس اہلکاروں نے انہیں دھمکایا اور ان کے ساتھ توہین آمیز سلوک کیا۔ راہل گاندھی نے طلبہ کی باتیں سنیں اور ان سے کہا کہ وہ اپنے پاس موجود ویڈیو اور دوسرے ثبوت شیئر کریں۔LoP Shri @RahulGandhi briefed the press along with protesters affected by Delhi Police brutality during a peaceful protest. pic.twitter.com/wmGVeVaMgA— Congress (@INCIndia) October 14, 2026راہل گاندھی نے طلبہ کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’’امت شاہ جی، دھیان سے دیکھ لیجے، یہ ہندوستان ہے۔ یہاں نہ کوئی ہندو ہے، نہ مسلم، نہ مرد ہے، نہ عورت اور نہ کوئی ذات۔ یہاں صرف ایک آواز ہے، ایک احتجاج ہے، یہ ہندوستان ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’نریندر مودی اور امت شاہ آپ دونوں اس آواز کے سامنے کھڑگے مت ہوئیے، کیونکہ اس کے سامنے کوئی کھڑا نہیں ہو سکتا۔ میں تمام نوجوانوں اور طلبہ سے کہہ رہا ہوں کہ آپ بطور ثبوت ویڈیو محفوظ رکھیے۔ جب یہ معاملہ ختم ہو جائے گا، تب ہم ان ثبوتوں کا استعمال کریں گے اور اوپر سے لے کر نیچے تک سب کو سزا دلائیں گے۔ کوئی بچے گا نہیں۔‘‘अमित शाह जी- ध्यान से देख लीजिए, ये हिंदुस्तान है यहां न कोई हिंदू है, न मुस्लिम। न पुरुष है, न महिला। न कोई जाति है। यहां सिर्फ एक आवाज है, एक प्रोटेस्ट है- ये हिंदुस्तान है। नरेंद्र मोदी और अमित शाह, आप दोनों इस आवाज के सामने खड़े मत होइए, क्योंकि इसके सामने कोई खड़ा नहीं… pic.twitter.com/ubhNlfU278— Congress (@INCIndia) October 14, 2026راہل گاندھی نے مزید کہا کہ ’’ایک احتجاج ہے، ایک آواز ہے اور یہ ملک کی آواز ہے، جسے دبانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اس معاملے میں کیسے ایف آئی آر کرانی ہے، کیسے دباؤ ڈالنا ہے، وہ سب ہمارا کام ہے۔ اس کی کسی کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ کانگریس لیڈر نے یہ بھی کہا کہ ’’میں نے پریس کانفرنس میں صحافیوں سے پوچھا کہ آپ میں سے کتنے لوگ سوچتے ہیں کہ نریندر مودی صحیح کہہ رہے ہیں؟ وہاں کسی صحافی نے ہاں میں جواب نہیں دیا اور بلا خوف سچائی ملک کو دکھا دی۔‘‘एक प्रोस्टेट है, एक आवाज है और ये देश की आवाज है- जिसे दबाने की कोशिश हो रही है।इस मामले में कैसे FIR करानी है, कैसे दबाव डालना है- वो सब हमारा काम है, उसकी चिंता करने की जरूरत किसी को नहीं है।: नेता विपक्ष श्री @RahulGandhi pic.twitter.com/Hj00OLnzpF— Congress (@INCIndia) October 14, 2026मैंने प्रेस कॉन्फ्रेंस में पत्रकारों से पूछा कि आपमें से कितने लोग सोचते हैं कि नरेंद्र मोदी सही कर रहे हैं?वहां किसी पत्रकार ने 'हां' में जवाब नहीं दिया और बिना डरे सच्चाई देश को दिखा दी।: नेता विपक्ष श्री @RahulGandhi pic.twitter.com/5HMOr1I4We— Congress (@INCIndia) October 14, 2026پریس کانفرنس کے دوران ایک طالب علم نے کہا کہ ’’میرا نام سمرتھ ہے۔ ہم لوگ 4 اکتوبر سے پرامن طریقے سے احتجاج کر رہے تھے اور 5 اکتوبر کو حراست میں لیا گیا۔ پھر ہمیں پارلیمنٹ پولیس اسٹیشن لے جا کر وہاب سنگھ تومر نام کے پولیس اہلکار کے ساتھ 20 پولیس والوں نے بری طرح مارا۔ اس کے بعد ہمیں پیچھے کے راستے سے نکالا گیا اور پارلیمنٹ پولیس اسٹیشن سے دہلی کینٹ تک کانسٹیبل انکت کسانا مارتے لے گیا۔ جب میرے ساتھ دھرمیندر نے کہا کہ انہیں الٹی آ رہی ہے تو پولیس والوں نے کہا کہ اپنا بیگ کھولو اور اسی میں الٹی کرو۔‘‘मेरा नाम समर्थ है। हम लोग 4 अक्टूबर से शांतिपूर्ण प्रदर्शन कर रहे थे और 5 अक्टूबर को हमें हिरासत में लिया गया। फिर हमें पार्लियामेंट पुलिस स्टेशन ले जाकर वहाब सिंह तोमर नाम के पुलिसकर्मी के साथ 20 पुलिसवालों ने बुरी तरह से मारा।इसके बाद, हमें पीछे के रास्ते से निकाला गया और… pic.twitter.com/bBgsYHiXSF— Congress (@INCIndia) October 14, 2026دھرمیندر نام کے طالب علم نے کہا کہ ’’پولیس اہلکاروں نے ہم سے کہا کہ بولو دہلی پولیس تمہارے پاپا ہیں۔ ہمیں بہت مارا گیا، ہم سے انکس کسانا نام کے ایک پولیس والے نے کہا کہ بلا لے اپنے نیتا کو، تمہیں کوئی بچانے نہیں آئے گا۔‘‘ دھرمیندر نے یہ بھی کہا کہ ’’ہم پھر احتجاج میں جائیں گے، لیکن ناانصافی کے خلاف جھکیں گے نہیں، لڑیں گے اور جیتیں گے۔‘‘ ساتھ ہی اس نے کہا کہ ’’میں کئی روز سے خاموش تھا، رو رہا تھا... لیکن جب میں راہل گاندھی جی سے ملا ہوں، تب سے میرے چہرے پر خوشی ہے کیونکہ انہوں نے مجھ سے کہا کہ ڈرنا نہیں ہے، تم ہمارے شیر ہو۔ مجھے جب حراست میں لیا گیا تو پولیس والوں نے ہمیں خوب مارا اور کہا کہ ایسا سبق سکھائیں گے کہ تم احتجاج کرنا بھول جاؤ گے لیکن میں اب ڈرنے والا نہیں ہوں۔‘‘पुलिसकर्मियों ने हमसे कहा- बोलो दिल्ली पुलिस तुम्हारे पापा हैं।हमें बहुत मारा गया, हम से अंकित कसाना नाम के एक पुलिसवाले ने कहा- बुला ले अपने नेता को, तुम्हें कोई बचाने नहीं आएगा।हम फिर Protest में जाएंगे, लेकिन अन्याय के खिलाफ झुकेंगे नहीं, लड़ेंगे और जीतेंगे।: धर्मेंद्र… pic.twitter.com/VleAzih60c— Congress (@INCIndia) October 14, 2026मैं कई दिन से चुप था, रो रहा था...लेकिन जब से मैं राहुल गांधी जी से मिला हूं, तब से चेहरे पर खुशी है, क्योंकि उन्होंने मुझसे कहा- डरना नहीं है, तुम हमारे शेर हो।मुझे जब हिरासत में लिया गया तो पुलिसवालों ने हमें खूब मारा और कहा- ऐसा सबक सिखाएंगे कि तुम प्रोटेस्ट करना भूल… pic.twitter.com/7PVFPjWtkh— Congress (@INCIndia) October 14, 2026کانگریس نے’ایکس‘ ہینڈل پر پریس کانفرنس کی ایک ویڈیو شیئر کر لکھا کہ ’’یہ کانگریس کی شیرنی ہے، کسی سے ڈرے گی نہیں۔ کل دہلی میں این ایس یو آئی کے ساتھ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف احتجاج کر رہی تھی، اس دوران پولیس نے ریتو برالا کو ڈیٹین کر لیا۔ اس کے بعد بس میں چنچل یادو نام کی خاتون کانسٹیبل نے ریتو کو بری طرح مارا۔ پھر تھانہ لے جا کر پیروں ڈنڈوں سے مارا گیا۔ دہلی پولس یاد رکھے ہم یہ بربریت بھولیں گے نہیں۔‘‘ کانگریس کے مطابق ریتو کا کہنا ہے کہ ’’آپ کو جتنا مارنا ہے مار لو، ہم ڈریں گے نہیں، ناانصافی کے خلاف لڑیں گے اور جیتیں گے۔‘‘ये कांग्रेस की शेरनी है, किसी से डरेगी नहीं।कल दिल्ली में NSUI के साथी 'वोट चोरी' के खिलाफ प्रदर्शन कर रहे थे, इस दौरान पुलिस ने @Ritubarala जी को डिटेन कर लिया। इसके बाद बस में चंचल यादव नाम की महिला कॉन्स्टेबल ने रितु को बुरी तरह मारा। फिर थाने ले जाकर पैरों पर डंडों से… pic.twitter.com/dgzf0YZX55— Congress (@INCIndia) October 14, 2026پریس کانفرنس کے دوران ادیرا نےکہا کہ ’’جب پولیس نے ہمیں حراست میں لیا تو بس میں کوئی خاتون پولیس اہلکار موجود نہیں تھی۔ ہم نے خاتون کانسٹیبل بھیجنے کا مطالبہ کیا، لیکن اس کے باوجود انہوں نے بس آگے بڑھا دی۔ پولیس اہلکاروں نے مجھے سڑک پر گھسیٹا۔ وہ مجھے بیسمنٹ میں لے گئے، وہاں میرے چہرے پر گھونسے مارے۔ انہوں نے میرے شرم گاہ اور پیٹ کے اوپری حصے پر بھی مارا۔ انہوں نے میرے ساتھ انسان یا عورت جیسا سلوک تک نہیں کیا۔‘‘ کانگریر کے مطابق دہلی یونیورسٹی کی طالبہ ادیرا کی شکایت ہے کہ پولیس نے ان کے ایک کان پر مارا، جس کے بعد اس کان سے ان کی قوت سماعت ختم ہو گئی۔ "When they detained us, there were no women police officers on the bus. We asked for a female constable, but they moved the bus anyway.The police officers dragged me along the road. They took me to the basement, punched me and hit me on the cheek. They also hit me on my private… pic.twitter.com/WbOcXQMsdU— Congress (@INCIndia) October 14, 2026