فرانس میں مہنگائی کیخلاف احتجاج: 140 سال پرانا بیل ٹاور آگ لگنے کے باعث زمین بوس

Wait 5 sec.

پیرس : فرانس میں مہنگائی اور حکومتی پالیسیوں کیخلاف احتجاج کے دوران 140 سال پرانا بیل ٹاور آگ لگنے کے باعث زمین بوس ہوگیا۔فرانس میں مہنگائی اور حکومتی پالیسیوں کیخلاف احتجاج شدت اختیار کر گیا، دارالحکومت پیرس سمیت مارسی، ٹولوز، لیون اور لیل سمیت کئی بڑے شہروں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جن کے دوران سیکڑوں پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔مشتعل مظاہرین نے ملک کے مختلف حصوں میں سرکاری املاک، کاروباری اور تجارتی مراکز کو نذرآتش کر دیا ہے۔ہنگامہ آرائی کے دوران ایک سو چالیس (140) سال پرانا تاریخی بیل ٹاور بھی آگ لگنے کے باعث زمین بوس ہو گیا۔احتجاج کی شدت کے باعث پیرس میں میٹرو اسٹیشنز بند کر دیے گئے ہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام مکمل طور پر درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔FOLLOW US ON ARY TUBEمظاہرین نے شہر کے سیاحتی دفتر کو آگ لگا دی جبکہ مشتعل ہجوم میئر کے دفتر میں زبردستی گھس گیا اور وہاں شدید توڑ پھوڑ کی اور کئی علاقوں میں دکانوں کے شیشے توڑ کر بڑے پیمانے پر لوٹ مار کی وارداتیں بھی ریکارڈ کی گئیں۔مظاہرین نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سے فوری استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے اب تک دو ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ملک کی ابتر ہوتی ہوئی صورتحال پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج اور اختلافِ رائے کے حق کا احترام کرتے ہیں، لیکن مظاہرین کی آڑ میں پرتشدد کارروائیوں اور تخریب کاری کا کوئی جواز نہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ پرامن مظاہرین اور تخریب کاروں میں واضح فرق کیا جانا چاہیے۔صدر میکرون نے اعلان کیا کہ لوٹ مار اور توڑ پھوڑ کرنے والوں کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی، ان کے خلاف سخت مقدمات چلائے جائیں گے اور قانون کے مطابق کڑی سزائیں دی جائیں گی۔