منی پور کے کامجونگ ضلع میں جمعرات کو مشتبہ ناگا انتہاپسندوں کے مبینہ حملے میں ایک کوکی خاتون کی موت ہو گئی، جبکہ اس کا شوہر زخمی ہو گیا۔ ریاست میں جاری نسلی تشدد کے درمیان اسی طبقے کے 2 دیگر افراد کے لاپتہ ہونے کی بھی اطلاع ہے۔ متوفی خاتون ہتنیکم ہاؤکپ مولنوئی گاؤں کی رہنے والی تھی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق یہ گروپ ضروری سامان خریدنے کے لیے فائیکوہ جا رہا تھا، تبھی فائیکوہ اور ایشو کے درمیان سڑک پر اس کونشانہ بنایا گیا۔ اس حملہ میں ہتنیکم کا شوہر زخمی ہو گیا، جبکہ اس کے ساتھ موجود 2 دیگر شہری اب بھی لاپتہ ہیں۔جمعرات کو ہوئے اس حملہ کے بعد کوکی-ناگا تنازعہ میں ہلاک ہونے والی کوکی خواتین کی تعداد بڑھ کر 10 ہو گئی ہے۔ ان میں 2 حاملہ خواتین بھی شامل ہیں۔ یہ جھڑپیں کوکی-میتیئی تنازعہ کے بعد ہوئی ہیں، جو 2023 سے 2025 تک جاری رہا تھا۔ یہ حملہ اس واقعہ کے 5 دن بعد ہوا، جس میں 3 اضلاع میں 9 افراد کی جان چلی گئی تھی۔ ان میں 2 کوکی، 1 گورکھا اور 6 ناگا مرد شامل تھے۔رواں سال فروری میں کوکی-ناگا تنازعہ شروع ہونے کے بعد سے کم از کم 22 ناگا اور 32 کوکی افراد کی جان جا چکی ہے۔ بدھ کی دیر رات سیکورٹی فورسز کو کانگ پوکپی ضلع میں ناگا شخص اجنباؤ رنگکامائی کا کٹا ہوا سر ملا۔ 10 اکتوبر کو جب مشتبہ کوکی انتہاپسندوں نے مکوی اشانگ گاؤں پر حملہ کیا تھا، تو اس میں مارے گئے چار ناگا مردوں میں وہ بھی شامل تھا۔ حملہ کے دوران اس کا سر جسم سے الگ ہو گیا تھا اور وہ نہیں مل رہا تھا۔ 11 اکتوبر کو اس کی بغیر سر والی لاش امپھال کے جواہر لعل نہرو انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (جے این آئی ایم ایس) لے جائی گئی تھی۔ ایک سینئر افسر نے بتایا کہ ’’بدھ کی دیر رات سیکورٹی فورسز کو جائے وقوع کے قریب ایک ویران مقام پر سر ملا، جسے آج صبح پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال لایا گیا۔‘‘ ناگا تنظیم جوائنٹ ٹرائبس کونسل منی پور نے حکام کو 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا تھا کہ وہ سر کا پتہ لگائیں اور اس کی مناسب آخری رسومات کو یقینی بنائیں۔منی پور کے وزیر داخلہ گوونداس کونتھوجم نے جمعرات کو امپھال کے ریجنل انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں زیر علاج بی ایس ایف کے 84 جوانوں سے ملاقات کے دوران کہا کہ صرف سرکاری کوششوں اور سکیورٹی اقدامات سے تشدد ختم نہیں ہو سکتا۔ ان جوانوں کو فوڈ پوائزننگ کے شبہے میں اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’جب عام لوگوں میں انسانیت ہی نہ ہو تو ایک دوسرے کو قتل کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے۔ قتل کرنے سے کسی بھی مسئلے کا حل نہیں نکلے گا۔ ہمیں ایک دوسرے سے بات کرنی چاہیے اور تمام اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہیے۔‘‘