سعودی ایئرپورٹس کو حوثیوں نے کب کب نشانہ بنایا؟ تفصیلات جاری

Wait 5 sec.

ریاض (16 اکتوبر 2026): عرب اتحاد نے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب میں ایئرپورٹس پر حملوں کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔عرب میڈیا کے مطابق یمن کی حکومت کی حمایت کرنے والے عرب اتحاد نے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے ایئرپورٹس پر ہونے والے حملوں اور ان کے نقصانات کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔عرب اتحاد کے سرکاری ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا ہے کہ حوثیوں نے رواں ماہ مملکت کے ہوائی اڈوں پر مجموعی طور پر 5 حملے کیے ہیں، جن میں 19 افراد جان سے گئے جب کہ 364 زخمی ہوئے ہیں۔میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق رواں ماہ حوثیوں نے سب سے پہلا حملہ کنگ عبداللہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کیا تھا، جس میں تین افراد زخمی ہوئے تھے۔انہوں نے بتایا کہ حوثیوں نے اگلے روز 6 اکتوبر کو دوسرا حملہ ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کیا، جس میں دو افراد جاں بحق جب کہ 28 زخمی ہوئے۔ترجمان عرب اتحاد کے مطابق 7 اکتوبر کو کنگ خالد ایئرپورٹ پر حملے میں ایک ہلاک اور 8 زخمی ہوئے جبکہ دوسرے دن 8 اکتوبر کو تین ہلاکتیں ہوئیں اور 5 افراد زخمی ہوئے۔میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ 10 اکتوبر کو کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثیوں کا کیا جانے والا حملہ اب تک کا سب سے سفاکانہ حملہ تھا، جس میں 13 افراد نے اپنی جانیں گنوائیں جب کہ 309 زخمی۔انہوں نے کہا کہ حوثی اس کے بعد بھی نہیں رکے اور اگلے روز 11 اکتوبر کو ایک اور حملے میں ایک شخص جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔اپنی پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملوں اور خلاف ورزیوں کے اعداد و شمار بھی پیش کیے۔ترجمان کا کہنا تھا 2 اپریل 2022 کو جنگ بندی کے آغاز سے 14 اکتوبر 2026 تک حوثیوں نے بیلسٹک میزائل کے 175 حملے کیے جبکہ 230 ڈرونز داغے۔ ڈرونز کے ذریعے تین ہزار 339 پروجیکٹائل فائر کیے۔ اس دوران بارودی سرنگیں بچھانے کے تین واقعات پیش آئے۔عرب اتحاد نے کہا ہے کہ ’حوثی ملیشا نے علاقائی فریقین کی مدد سے جدید ٹیکنالوجی حاصل کی اور وہ ایسا پہلا دہشت گرد گروہ بن گیا جس کے پاس بیلسٹک میزائل، ڈرون، خودکش ڈرون اور بارودی مواد سے لیس تیزرفتار کشتیاں موجود ہیں۔‘حوثی ملیشیا کو بڑا دھچکا، تعز میں اہم کمانڈر جنرل اکرم عامر ساتھیوں سمیت گرفتار