دہلی احتجاجی مظاہرہ: پولیس کی بربریت کا شکار طالبہ ادیرا کے بیان پر کیرلم پولیس نے درج کی ’زیرو ایف آئی آر‘

Wait 5 sec.

کیرلم پولیس نے این ایس یو آئی کی خاتون کارکن اور دہلی یونیورسٹی کی طالبہ ادیرا وجین کے ساتھ مبینہ مار پیٹ کے معاملے میں زیرو ایف آئی آر درج کی ہے۔ الزام ہے کہ چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبے کو لے کر احتجاج کے دوران دہلی پولیس نے ان کے ساتھ مار پیٹ کی تھی۔ ادیرا نے کیرلم کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) سے شکایت کر کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ شکایت کی بنیاد پر بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی مختلف دفعات کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔ اب اسے آگے کی تحقیقات کے لیے دہلی پولیس کو ٹرانسفر کیا جائے گا۔ ایف آئی آر میں کچھ نامعلوم یا قابل شناخت افراد کو ملزم بنایا گیا ہے۔Kerala Police have registered a Zero FIR at Museum Police Station in Thiruvananthapuram over the alleged assault on NSUI activist Athira Vijayan during a protest at Connaught Place in New Delhi. The case was registered under Sections 74, 76, 115, 117, 126, 296(b), 351(3) and 3(5)… pic.twitter.com/ZnJj9y8FeC— IANS (@ians_india) October 15, 2026کیرلم پولیس نے بی این ایس کی دفعہ 74، 76، 115، 126، 296(بی)، 351(3) اور 3(5) کے تحت معاملہ درج کیا ہے۔ یہ دفعات خاتون کے ساتھ مجرمانہ طاقت کے استعمال، چوٹ پہنچانے، غلط طریقے سے روکنے، مجرمانہ دھمکی اور دیگر متعلقہ جرائم سے وابستہ ہیں۔ واضح رہے کہ زیرو ایف آئی آر کسی بھی پولیس تھانے میں درج کی جا سکتی ہے، اگرچہ وہ واقعہ اس تھانہ کے دائرہ اختیار میں پیش نہ آیا ہو۔ بعد میں اسے تحقیقات کے لیے متعلقہ علاقہ کے پولیس تھانہ کو بھیج دیا جاتا ہے۔ اس معاملے میں الزامات کی تصدیق تحقیقات کے بعد ہی ہو سکے گی۔’کوئی بچے گا نہیں‘، دہلی میں احتجاج کے دوران پولیس کی بربریت کے شکار طلبہ سے راہل گاندھی کا وعدہواضح رہے کہ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے بدھ (14 اکتوبر) کو دہلی میں احتجاج کے دوران حراست میں لیے گئے طلبہ کے ساتھ پریس کانفرنس کی تھی۔ اس دوران طلبہ نے دہلی پولیس پر مار پیٹ اور بربریت کے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ پریس کانفرنس کے دوران ادیرا نے کہا تھا کہ ’’جب پولیس نے ہمیں حراست میں لیا تو بس میں کوئی خاتون پولیس اہلکار موجود نہیں تھی۔ ہم نے خاتون کانسٹیبل بھیجنے کا مطالبہ کیا، لیکن اس کے باوجود انہوں نے بس آگے بڑھا دی۔ پولیس اہلکاروں نے مجھے سڑک پر گھسیٹا۔ وہ مجھے بیسمنٹ میں لے گئے، وہاں میرے چہرے پر گھونسے مارے۔ انہوں نے میرے شرم گاہ اور پیٹ کے اوپری حصے پر بھی مارا۔ انہوں نے میرے ساتھ انسان یا عورت جیسا سلوک تک نہیں کیا۔‘‘ کانگریس کے مطابق دہلی یونیورسٹی کی طالبہ ادیرا کی شکایت ہے کہ پولیس نے ان کے ایک کان پر مارا، جس کے بعد اس کان سے ان کی قوت سماعت ختم ہو گئی۔"When they detained us, there were no women police officers on the bus. We asked for a female constable, but they moved the bus anyway.The police officers dragged me along the road. They took me to the basement, punched me and hit me on the cheek. They also hit me on my private… pic.twitter.com/WbOcXQMsdU— Congress (@INCIndia) October 14, 2026