سکھ رہنما گورپتونت سنگھ پنوں کی جان کو خطرہ، ایف بی آئی نے خبردار کر دیا

Wait 5 sec.

نیویارک: خالصتان حامی تنظیم سکھ فار جسٹس کے جنرل کونسل گرپتونت سنگھ پنوں کی جان کو ایک بار پھر شدید خطرہ لاحق ہوگیا ہے، ایف بی آئی نے سکھ رہنما کو اس حوالے سے خبردار کردیا ہے۔تنظیم‘سکھس فار جسٹس’(SFJ) کے رہنما اور مودی کے سخت ناقد گورپتونت سنگھ پنوں کا کہنا تھا کہ ایف بی آئی کے اہلکاروں نے نیویارک میں ان کے گھر کا دورہ کیا اور آگاہ کیا کہ ان کی زندگی کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ایف بی آئی اہلکاروں کا کہنا تھا کہ یہ نیا خطرہ ان کے مجوزہ دورہ کینیڈا سے منسلک ہے جہاں 18 اکتوبر کو ایڈمنٹن میں پنجاب کو آزاد ملک ’خالصتان‘ بنانے کے حوالے سے سکھ برادری کے لیے ایک ریفرنڈم کا انعقاد ہونا ہے، تاہم، ایف بی آئی نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں اور تبصرے کی درخواست کا بھی فوری جواب نہیں دیا۔پنوں کے مطابق ’سوال یہ نہیں ہے کہ میں کسی اور قتل کی سازش میں بچ پاؤں گا یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا سکھ قوم کے حقِ خودارادیت کو قتل کی دھمکیوں سے روکا جا سکتا ہے؟ اور اس کا جواب ہے: ہرگز نہیں۔‘واضح رہے کہ امریکی عدالت میں پیش کیے گئے مقدمات کے مطابق، امریکا اور کینیڈا کی دوہری شہریت رکھنے والے پنوں کو قتل کرنے کی سازش کے الزام میں بھارتی شہری نکھل گپتا اور بھارتی انٹیلی جنس کے سابق اہلکار وکاش یادو پر فردِ جرم عائد کی جا چکی ہے۔نکھل گپتا نے رواں سال فروری میں قتل کے لیے سپاری دینے، سازش اور منی لانڈرنگ کے الزامات کا اعتراف کیا تھا، جس کی سزا کا اعلان نومبر میں متوقع ہے اور پنوں بھی اس سماعت میں اپنا بیان ریکارڈ کروائیں گے۔یہ تمام واقعات جون 2023ء میں کینیڈا کے شہر سرے (برٹش کولمبیا) میں پنوں کے قریبی دوست اور سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے بعد سے مسلسل جاری ہیں۔بی جے پی کی قیادت بھارت کو ہندو راشٹر بنانا چاہتی ہے: گرپتونت سنگھ پنوںکینیڈین حکومت نے ستمبر 2023ء میں باضابطہ طور پر اعلان کیا تھا کہ نجر کے قتل میں بھارتی سرکاری ایجنٹ ملوث تھے جو کینیڈا کی خودمختاری کے خلاف ورزی ہے۔ تاہم، بھارت ہمیشہ ان الزامات اور پنو پر حملے کی کوشش کی تردید کرتا رہا ہے۔