نیویارک: امریکا کی سابق نائب صدر کاملہ ہیرس نے غزہ میں اسرائیل کے وحشیانہ مظالم رُکوانے میں کوتاہی کا اعتراف کیا ہے۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق سابق نائب صدر کاملہ ہیرس نے نیتن یاہو کو کھلی چھوٹ دینے پر ٹرمپ انتظامیہ کو بھی قصوروار ٹھہرایا۔کاملہ نے جنوبی کوریا میں ایک تقریب سے خطاب میں کہا کہ امریکا بعض اوقات انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کے حوالے سے اپنی اخلاقی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہا ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ اس کی تازہ مثال غزہ میں اسرائیل کی ہولناک کارروائیاں ہیں۔نوبیل امن انعام یافتہ ناوی پلے کا نیتن یاہو کیخلاف کارروائی کا مطالبہانہوں نے اعتراف کیا کہ ان کی اور سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کو غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے حوالے سے فوری اور زیادہ مؤثر اقدامات کرنے چاہیے تھے اور موجودہ ٹرمپ انتظامیہ بھی ایسا نہ کرسکی۔