برطانیہ(14 اکتوبر 2026): برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی فائیو کے سربراہ سر کین میکولم نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت برطانیہ کی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ بن گئی۔برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی فائیو کے سربراہ سر کین میکولم نے سیکیورٹی سروس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت اب برطانیہ کی سلامتی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے، اور تاریخ میں پہلی بار ہمیں ایسے خطرات کا سامنا ہے جو انسانی ذہانت سے بھی آگے جا سکتے ہیں۔سر کین میکولم نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ روس اس وقت برطانیہ کو درپیش سب سے بڑا سیکیورٹی خطرہ بنا ہوا ہے، جہاں روسی جاسوس اور پراکسی گروہ مسلسل برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔روس کے علاوہ ایران نے بھی اپنی ہائبرڈ مہم کو وسعت دینے کی بھرپور کوششیں کی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایران سے منسلک سرگرمیوں کے سلسلے میں گزشتہ ایک سال کے دوران 50 گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں، جن کی کارروائیوں کا بنیادی ہدف برطانیہ میں موجود یہودی اور فوجی تنصیبات تھیں۔ایم آئی فائیو کے سربراہ نے مزید انکشاف کیا کہ دہشت گرد تنظیمیں اور عناصر اب مصنوعی ذہانت کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کرنے اور ڈرونز کے مؤثر استعمال کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی سے مدد لے رہے ہیں، جو کہ ملکی سلامتی کے اداروں کے لیے ایک نیا اور بڑا چیلنج ہے۔