واشنگٹن(14 اکتوبر 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یمن کے حوثی ملیشیا کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکی انتخابات کے بعد اس معاملے کو ہرگز نہیں بھولیں گے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ "ٹروتھ سوشل” پر اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے حوثی ملیشیا کے حالیہ حملوں کو انتہائی نامناسب قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ یہ کارروائیاں ایران کے کہنے پر دوبارہ شروع کی گئی ہیں۔انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ سال امریکی بمباری کے بعد حوثی ملیشیا نے خود ان سے جنگ بندی کی درخواست کی تھی جس کے بعد وہ ایک طویل عرصے تک خاموش رہے تھے، لیکن اب وہ دوبارہ سرگرم ہو گئے ہیں۔صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ان کی یہ وارننگ 3 نومبر کے وسطی مدتی انتخابات کے بعد بھی برقرار رہے گی اور وہ اس معاملے کو نہیں بھولیں گے۔انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ وہ سعودی مفادات کے تحفظ کے لیے ترک صدر رجب طیب اردگان سے بھی مداخلت کی درخواست کر سکتے ہیں۔ایرانی معیشت اور عسکری طاقت پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس نہ تو کوئی مؤثر بحریہ ہے اور نہ ہی فضائیہ، جبکہ وہاں دنیا کی بدترین معیشت اور مہگائی کی شرح تین سو ایک فیصد تک پہنچ چکی ہے۔واضح رہے کہ ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت سعودی عرب پر ہونے والے حالیہ حملوں میں کم از کم 13 افراد جاں بحق اور 300 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے ایئرپورٹ کو بھی عارضی طور پر بند کرنا پڑا ہے۔اس کے علاوہ بحیرہ احمر اور باب المندب آبنائے میں تجارتی جہاز رانی پر حملوں نے عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی اور تیل کی قیمتوں کے حوالے سے شدید خدشات پیدا کر دیے ہیں۔