نئی دہلی: سپریم کورٹ نے تہلکہ میگزین کے سابق مدیر اعلیٰ ترون تیج پال کی 10 سالہ قید کی سزا کے خلاف دائر اپیل اور گوا حکومت کی جانب سے سزا میں اضافے کی درخواست پر سماعت 3 نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔ دونوں درخواستیں 2013 میں ایک ہوٹل کی لفٹ میں اپنی جونیئر خاتون ساتھی کے ساتھ عصمت دری کے مقدمے سے متعلق ہیں۔ تیج پال نے بامبے ہائی کورٹ کے گوا بنچ کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے، جبکہ حکومت نے سزا بڑھانے کی استدعا کی ہے۔ تازہ سماعت کے دوران گوا حکومت نے عدالت کو بتایا کہ اس نے تیج پال کی درخواست پر اپنا جواب جمع کرا دیا ہے۔ اس کے بعد عدالت نے مزید کارروائی کے لیے 3 نومبر کی تاریخ مقرر کی۔یہ مقدمہ اس وقت سپریم کورٹ پہنچا جب بامبے ہائی کورٹ کی گوا بنچ نے ماتحت عدالت کا بریت کا فیصلہ منسوخ کرتے ہوئے تیج پال کو جرم کا مرتکب قرار دیا اور دس برس کی سخت قید سنائی۔ ماتحت عدالت نے انہیں پہلے بری کیا تھا۔ ہائی کورٹ کا فیصلہ 6 اگست 2026 کو آیا، جس میں 2013 کے واقعے کے حوالے سے سزا سنائی گئی۔ تیج پال نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا اور سزا کے خلاف درخواست دائر کی۔ گوا حکومت کی جانب سے دائر درخواست میں سزا کو بڑھانے کا مطالبہ بھی اسی مقدمے کے ساتھ زیر سماعت ہے۔صحافی ترون تیج پال نے پولیس کے سامنے کی خود سپردگی، سزا کے خلاف اپیل پر سپریم کورٹ میں سماعت 22 ستمبر کو ممکنسپریم کورٹ نے 25 اگست کو حکم دیا تھا کہ تیج پال 3 ہفتوں کے اندر خود کو حکام کے حوالے کریں۔ بعد میں ان کے وکیل کپل سبل نے عدالت کو بتایا کہ حکم کے مطابق تیج پال نے سرینڈر کر دیا ہے۔ عدالت نے 25 ستمبر کو تیج پال کی درخواست پر گوا حکومت کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا تھا۔ سماعت کے دوران عدالت نے کہا تھا کہ اگلی تاریخ جلد طے کی جائے گی۔ تازہ سماعت میں حکومتی جواب کے بارے میں عدالت کو بتایا گیا، اور معاملے پر اگلی سماعت 3 نومبر کو مقرر ہوئی۔عصمت دری معاملہ: ترون تیج پال نے بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں کیا چیلنجتیج پال نے 14 ستمبر کو گوا کی ایک عدالت میں سرینڈر کیا تھا۔ عدالتی کارروائی کے بعد انہیں شمالی گوا کی کولوالے مرکزی جیل منتقل کیا گیا۔ انہوں نے ہائی کورٹ کی جانب سے سزا سنائے جانے کے چند ہفتوں بعد سرینڈر کیا تھا۔ 25 اگست کے حکم کے مطابق مقررہ تین ہفتوں کے اندر یہ عمل مکمل ہوا۔