انتخابی ریکارڈ غائب ہونے پر سپریم کورٹ نے کی الیکشن کمیشن کی سرزنش، 15 فروری تک فوٹیج پیش کرنے کا حکم

Wait 5 sec.

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے کرناٹک اسمبلی انتخابات سے متعلق ایک معاملہ کی سماعت کے دوران انتخابی ریکارڈ، خصوصاً ووٹوں کی اصل گنتی کی ویڈیو ریکارڈنگ، دستیاب نہ ہونے پر الیکشن کمیشن کو سخت سرزنش کی ہے۔ عدالت نے کمیشن سے کہا ہے کہ مقدمے کی اگلی سماعت پر اس کے پاس موجود تمام متعلقہ ریکارڈ پیش کیا جائے۔ عدالت نے خبردار کیا کہ ریکارڈ پیش نہ ہونے کی صورت میں کمیشن کے خلاف فیصلہ دیا جا سکتا ہے۔جسٹس سنجے کمار اور جسٹس سنجیو سچدیوا پر مشتمل بنچ بدھ کو کانگریس رہنما ٹی ڈی راجے گوڑا کی درخواست پر سماعت کر رہی تھی۔ راجے گوڑا نے 2023 کے کرناٹک اسمبلی انتخابات میں شرنگیری نشست سے کامیابی حاصل کی تھی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار ڈی این جیوراج نے ان کی کامیابی کو کرناٹک ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ہائی کورٹ نے پوسٹل بیلٹ کی دوبارہ گنتی کا حکم دیا۔ دوبارہ گنتی کے بعد راجے گوڑا کے ووٹوں کی تعداد کم ہو گئی اور جیوراج کو کامیاب قرار دے دیا گیا۔ راجے گوڑا نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ مئی میں سپریم کورٹ نے انہیں عبوری ریلیف دیتے ہوئے کہا تھا کہ درخواست پر حتمی فیصلہ آنے تک وہ رکن اسمبلی برقرار رہیں گے۔بدھ کی سماعت میں سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے ووٹوں کی گنتی کی ویڈیو فوٹیج طلب کی۔ کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ووٹوں کی اصل گنتی کی ویڈیو ریکارڈنگ ابھی تک نہیں مل سکی اور اسے تلاش کیا جا رہا ہے۔ اس جواب پر بنچ نے ناراضگی ظاہر کی اور سوال اٹھایا کہ کمیشن اس انتخاب کا ریکارڈ گم ہونے کی بات کیسے کر سکتا ہے، جب انتخاب اسی کی نگرانی میں ہوا تھا۔عدالت نے کہا کہ الیکشن کرانا کمیشن کی ذمہ داری ہے اور متعلقہ ریکارڈ اس کے پاس محفوظ ہونا چاہیے۔ بنچ نے ریمارکس دیے کہ یہ کہنا کافی نہیں کہ ریکارڈ تلاش کیا جا رہا ہے، خصوصاً جب یہ ریکارڈ امیدوار کو دیا گیا تھا۔ عدالت نے دستیاب تمام مواد اگلی تاریخ پر پیش کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ ایسے کمزور عذر قبول نہیں کیے جائیں گے۔سپریم کورٹ نے معاملہ کی اگلی سماعت 15 فروری 2027 کو مقرر کی ہے۔ بنچ نے واضح کیا کہ اگر الیکشن کمیشن مطلوبہ ریکارڈ پیش کرنے میں ناکام رہا تو عدالت اس کے خلاف فیصلہ دے سکتی ہے۔