اپوزیشن کا فرض ہے کہ وہ حکومت کی مخالفت کرے، اسے بے نقاب کرے اور اقتدار سے ہٹائے: پی چدمبرم

Wait 5 sec.

چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران ’اقتدار کی تبدیلی‘ کی اصطلاح کے استعمال پر شروع ہونے والی سیاسی بحث تیز ہوگئی ہے۔ کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر پی چدمبرم نے ہفتہ (17 اکتوبر) کو کہا کہ جمہوریت میں اقتدار کی تبدیلی ایک معمول کا عمل ہے۔ انہوں نے بی جے پی کے ردعمل پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کا کام حکومت کی مخالفت کرنا، اس کی خامیوں کو سامنے لانا اور انتخابات کے ذریعے اسے اقتدار سے ہٹانا ہے۔Why is the BJP apoplectic with feigned rage on the use of the phrase 'regime change'?'Regime change' is normal in a democracyThe duty of the Opposition is to'oppose, expose and depose' the governmentWhich means: oppose in politics, expose in Parliament and depose through…— P. Chidambaram (@PChidambaram_IN) October 17, 2026پی چدمبرم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’رجیم چینج یعنی حکومت کی تبدیلی کی اصطلاح کے استعمال پر بی جے پی دکھاوے کے غصے اور شدید برہمی کا اظہار کیوں کر رہی ہے؟ جمہوریت میں حکومت کی تبدیلی معمول کی بات ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’اپوزیشن کا فرض ہے کہ وہ حکومت کی مخالفت کرے، اسے بے نقاب کرے اور اقتدار سے ہٹائے۔ یعنی سیاست میں مخالفت کرے، پارلیمنٹ میں حکومت کی خامیوں کو سامنے لائے اور انتخابات کے ذریعے اسے اقتدار سے ہٹائے۔‘‘’ہم فخر سے کہتے ہیں، اقتدار میں تبدیلی لا کر رہیں گے‘، راجناتھ سنگھ کے بیان پر کانگریس کا جوابی حملہدراصل آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) کی صدر نیہا بورا نے ایک بیان میں ’رجیم چینج‘ کا ذکر کیا تھا۔ انہوں نے بنگلہ دیش کے طلبا سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستان کی جین-زی تحریک کو جمہوریت اور انسانی حقوق کی بحالی کے لیے بنگلہ دیش کے نوجوانوں سے تحریک ملی ہے۔ اسی بیان کے بعد سے بی جے پی حملہ آور ہے اور وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے بھی اسی معاملے کو لے کر نشانہ بنایا تھا۔ راج ناتھ سنگھ نے الزام لگایا تھا کہ اپوزیشن کے کچھ لیڈران بنگلہ دیش کی طرح ہندوستان میں بھی اقتدار کی تبدیلی کی سازش کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی لڑائی ایس آئی آر کے لیے نہیں ہے، بلکہ وہ ملک میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اپوزیشن لیڈران نوجوانوں کو انتشار کی طرف لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وہ انتشار کے ذریعہ اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔