حوثی ملیشیا کو بڑا دھچکا، تعز میں اہم کمانڈر جنرل اکرم عامر ساتھیوں سمیت گرفتار

Wait 5 sec.

صنعا: حوثی ملیشیا کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے، تعز کے مغربی محاذ پر یمنی سرکاری فورسز کی ایک کارروائی میں داخلی سیکیورٹی کے سربراہ میجر جنرل اکرم عامر المتوکل متعدد ساتھیوں سمیت گرفتار ہو گیا۔سعودی میڈیا نے گرفتاری سے پہلے اور بعد کی ویڈیو جاری کی ہے، آپریشن کے دوران اب تک 13 سو سے زائد حوثی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں، حوثی فوجی اہداف کے خلاف 23 سو سے زیادہ فضائی اور زمینی کارروائیاں کی گئیں۔فوجی کارروائیوں میں چیک پوسٹوں، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، اسلحہ ڈپو، رسدی مراکز اور دیگر فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، 300 سے زائد فوجی گاڑیاں اور بھاری مقدار میں فوجی ساز و سامان بھی تباہ کیا گیا۔یمن کا 1200 حوثیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰفوجی اور سیاسی تجزیہ کاروں نے اس گرفتاری کو حوثی قیادت کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، وزارتِ داخلہ کے اعلیٰ عہدے داروں کو براہِ راست فعال محاذِ جنگ پر تعینات کرنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حوثی ملیشیا کو جنگجوؤں کی بھرتی اور محاذوں پر تعیناتی میں شدید قلت کا سامنا ہے اور اس پر میدانِ جنگ میں حکمتِ عملی کے حوالے سے دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔سعودی عرب کے بجائے حوثیوں کو کہاں حملے کرنے چاہیے تھے؟ چیچن کمانڈر کا اہم بیان