انکیتا بھنڈاری کے حق میں انڈیا گیٹ پر کانگریس کا زبردست مظاہرہ، انکیتا کے والدین حراست سے رِہا ہوئے

Wait 5 sec.

انکیتا بھنڈاری قتل معاملہ میں انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے دہلی کے انڈیا گیٹ پر جاری احتجاج کے بعد دہلی پولیس نے انکیتا بھنڈاری کے والدین، کانگریس لیڈر پون کھیڑا سمیت کئی اپوزیشن لیڈروں اور مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔ تاہم، بعد میں پولیس نے انکیتا کے والدین کو رہا کر دیا۔ مظاہرین رات بھر انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے جمع تھے۔ ان لوگوں میں ناراضگی دُشینت گوتم کو گورنر بنائے جانے کے فیصلہ پر ہے، اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ انھیں فوری اثر سے ہٹایا جائے۔کانگریس لیڈر اور منگلور سے رکن اسمبلی قاضی نظام الدین نے کہا کہ انکیتا کے والدین راشٹرپتی بھون کے سامنے پُرامن دھرنا دے رہے تھے۔ راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی نے خاندان کی حوصلہ افزائی کی، لیکن رات گئے پولیس مظاہرین کو حراست میں لے کر جانے لگی۔ قاضی نظام الدین نے الزام لگایا کہ جس پولیس کو مبینہ وی آئی پی پہلو کی جانچ کرنی چاہیے، وہ انکیتا کے والدین کو حراست میں لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اس لڑائی کو جاری رکھے گی۔ انہوں نے دشینت گوتم کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ان کا مطالبہ پورا نہیں ہوتا، تحریک جاری رہے گی۔کانگریس لیڈروں نے الزام لگایا کہ اپنی بیٹی کے لیے انصاف کی فریاد کرنے والے خاندان کو حراست میں لیا جا رہا ہے، جبکہ معاملے میں مبینہ وی آئی پی تعلق کی جانچ کا مطالبہ اب بھی برقرار ہے۔ انکیتا کے والدین اپنی بیٹی کے معاملے میں غیر جانب دارانہ جانچ اور مبینہ وی آئی پی پہلو کی تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔پولیس کے ذریعہ حراست میں لیے جانے کے دوران انکیتا بھنڈاری کی ماں نے کہا کہ ’’ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ جب تک ان (دشینت گوتم) کی تقرری منسوخ نہیں ہو جاتی، ہم اپنے موقف پر قائم رہیں گے۔ اگر ہمیں یہاں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی گئی تو ہم اپنے گھروں میں ہی بھوک ہڑتال پر بیٹھ جائیں گے۔‘‘ دوسری طرف انکیتا کے والد نے کہا کہ ’’ہم حکومت کو 24 گھنٹے کی مہلت دیتے ہیں کہ سکم کے گورنر کے طور پر دشینت کمار کی تقرری منسوخ کی جائے۔ اگر اسے منسوخ نہیں کیا گیا تو پورے ملک کے لوگ سڑکوں پر اتریں گے اور اس کے لیے حکومت ذمہ دار ہوگی۔‘‘