چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف راہل گاندھی و دیگر اپوزیشن لیڈران کی عرضیوں پر سپریم کورٹ میں سماعت آج

Wait 5 sec.

لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی سمیت اپوزیشن کے 13 لیڈران کی عرضیوں پر آج 15 اکتوبر کو سپریم کورٹ میں سماعت ہوگی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی کی بنچ اس معاملے کی سماعت کرے گی۔ دراصل ایس آئی آر اور انتخابات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف اپوزیشن لیڈران نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ اس کے علاوہ 10 اکتوبر کو جین-زی طبقہ کے احتجاج کے دوران راجدھانی دہلی میں پولیس کی کارروائی اور اسی دوران میٹرو و سڑکیں بند کیے جانے سے متعلق توہین عدالت کی عرضی پر بھی سپریم کورٹ میں سماعت ہوگی۔ واضح رہے کہ اس معاملے کی سماعت بھی چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی کی بنچ کرے گی۔ان سب معاملوں کے علاوہ کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور دیگر اپوزیشن لیڈران کے سپریم کورٹ پہنچنے کے موقع پر ہوئے ہنگامے اور نعرے بازی کے خلاف بھی سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی گئی ہے۔ اس معاملے پر بھی سپریم کورٹ میں سماعت ہونی ہے۔ سپریم کورٹ میں دائر عرضی میں ان لیڈران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے اور سیاسی مقاصد کے لیے عدالت کے احاطے کے استعمال پر روک لگانے سمیت کئی مطالبات کیے گئے ہیں۔الیکشن کمیشن تنازعہ: چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف درخواست پر سماعت کے لیے سپریم کورٹ راضیقابل ذکر ہے کہ انڈیا بلاک کے لیڈران ایس آئی آر اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف سڑک سے لے کر عدالت تک تحریک چلا رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ فوری اثر سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ہٹایا جایا کیونکہ وہ ایس آئی آر کا استعمال کر غلط طریقے سے ووٹرس کے نام کاٹ رہے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر پر منمانی والا رویہ اختیار کرنے کا بھی الزام عائد کیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ یہ سب برسراقتدار طبقہ کو فائدہ پہنچانے کی کوشش ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملکارجن کھڑگے، راہل گاندھی، ممتا بنرجی اور اروند کیجریوال جیسے سرکردہ لیڈران لگاتار وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔