دہلی میں جمعرات کی دیر شب سنسد مارگ تھانہ کے باہر زبردست ہلچل دیکھنے کو ملی۔ این ایس یو آئی اور انڈین یوتھ کانگریس کے لیڈران و کارکنان اس تھانہ کے باہر این ایس یو آئی کی خاتون کارکنان سے مبینہ مار پیٹ کے معاملہ میں ایف آئی آر کا مطالبہ کرتے ہوئے مظاہرہ کیا، جس میں این ایس یو آئی صدر ونود جاکھڑ اور انڈین یوتھ کانگریس صدر اودے بھانو چب سمیت کئی طلبا لیڈران و نوجوانوں کو حراست میں لیے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔این ایس یو آئی کے ذریعہ سنسد مارگ تھانہ پہنچ کر ایف آئی آر درج کرانے کا مطالبہ کیے جانے اور ان کے ساتھ دہلی پولیس کی کارروائی پر کانگریس نے اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ کانگریس نے ونود جاکھڑ اور ادے بھانو چب جیسے یوتھ لیڈران کو حراست میں لیے جانے سے قبل کی گئی اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ ’’دہلی پولیس کو لگتا ہے، اس استحصال سے ہم ڈر جائیں گے۔‘‘ پارٹی کا کہنا ہے کہ ’’این ایس یو آئی کی طالبات کے ساتھ جو بربریت کی گئی، اس کے لیے ایف آئی آر تو لکھنی ہی ہوگی۔ ملک آئین سے چلے گا، نریندر مودی اور شاہ کے حکم سے نہیں۔‘‘ کانگریس نے یہ عزم بھی ظاہر کیا کہ ’’نہ ڈرے ہیں، نہ ڈریں گے، انصاف لے کر رہیں گے۔‘‘दिल्ली पुलिस को लगता है - इस दमन से हम डर जाएंगे।NSUI की छात्राओं के साथ जो बर्बरता की गई, उसके लिए FIR तो लिखनी ही होगी।देश संविधान से चलेगा, नरेंद्र मोदी और शाह के आदेश से नहीं।न डरे हैं, न डरेंगे - न्याय लेकर रहेंगे। दिल्ली pic.twitter.com/Lh7z5A8ipm— Congress (@INCIndia) October 15, 2026ایک دیگر سوشل میڈیا پوسٹ میں کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’این ایس یو آئی کے ساتھیوں کے ساتھ ہوئی بربریت کو 24 گھنٹے گزر چکے ہیں، لیکن پولیس ایف آئی آر درج نہیں کر رہی۔ جب ایف آئی آر کے مطالبہ کو لے کر این ایس یو آئی صدر ونود جاکھڑ نوجوان ساتھیوں کے ساتھ سنسد مارگ تھانہ کے باہر دھرنے پر بیٹھے تو ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی۔‘‘ انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’دہلی پولیس اور نریندر مودی یاد رکھیں، ہم یہ ظلم، بربریت اور استحصال بھولیں گے نہیں۔ ہم انصاف لے کر رہیں گے اور اس ظلم کا سخت جواب دیں گے۔‘‘NSUI के साथियों के साथ हुई बर्बरता को 24 घंटे बीत चुके हैं, लेकिन पुलिस FIR दर्ज नहीं कर रही।जब FIR की मांग को लेकर NSUI अध्यक्ष @VinodJakharIN जी युवा साथियों के साथ संसद मार्ग थाने के बाहर धरने पर बैठे तो उनके साथ बदसलूकी की गई।दिल्ली पुलिस और नरेंद्र मोदी याद रखें- हम ये… pic.twitter.com/pLMEQKiE65— Congress (@INCIndia) October 15, 2026دراصل این ایس یو آئی نے دہلی پولیس کی ایک خاتون افسر پر الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے این ایس یو آئی کی خاتون کارکنان کے ساتھ مار پیٹ کی ہے۔ اسی معاملہ میں وہ سنسد مارگ تھانہ پہنچ کر ایف آئی آر درج کرانا چاہتے تھے۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ بدھ کے روز ایڈیشنل ڈی سی پی سمیت سینئر افسران سے رابطہ کے باوجود ایف آئی آر درج نہیں ہوئی، اس لیے وہ تھانہ کے باہر دھرنے پر بیٹھ گئے۔ این ایس یو آئی کا الزام ہے کہ پولیس نے شکایت لینے کی جگہ مظاہرین پر ہی کارروائی کی۔ جاکھڑ نے الزام عائد کیا کہ خاتون کارکنان سے مار پیٹ کی گئی اور کچھ کو اندھیرے کمرے میں لے جا کر جوتے سے پیٹا گیا۔ اس کے لیے ایف آئی آر کا مطالبہ کرنا کیا گناہ ہے؟