یہ پیش رفت ایسے وقت میں بھی سامنے آئی ہے جب روس اور افغانستان کی طالبان حکومت کے درمیان سیاسی، سفارتی اور سکیورٹی سطح پر روابط میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ ماسکو افغانستان سے متعلق علاقائی سفارتکاری میں بھی زیادہ سرگرم دکھائی دیتا ہے۔