ممبئی(16 اکتوبر 2026): مہاراشٹر فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے کھلے اور پیکنگ کے بغیر مصالحہ جات کی فروخت پر پابندی عائد کردی ہے۔خوراک میں ملاوٹ اور غیر محفوظ پروسیسنگ کے طریقوں کے خلاف ایک بڑی ریگولیٹری کارروائی کرتے ہوئے مہاراشٹر فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے جمعرات 15 اکتوبر 2026 کو ریاست بھر میں کھلے، بغیر پیکنگ والے مصالحہ جات اور مکسڈ مصالحوں (مصالحہ پاؤڈر) کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔فوڈ سیفٹی کمشنر توکارم منڈے کی جانب سے جاری کردہ اس ایگزیکٹو ڈائریکٹیو میں مصالحہ سپلائی چین سے جڑے تمام اداروں، بشمول مینوفیکچررز، ہول سیلرز، ریٹیلرز، ای کامرس پلیٹ فارمز اور کمرشل کچنز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ 2006 کے قانونی ضوابط کے مطابق اپنے امور فوری طور پر ہم آہنگ کریں۔Follow US on ARY Tubeیہ پابندی باورچی خانے کے اہم ترین مصالحہ جات پر لاگو ہوتی ہے، جن میں ہلدی، سرخ مرچ، دھنیا، زیرہ، کالی مرچ، دارچینی، الائچی، لونگ، ہینگ، زعفران، گرم مصالحہ اور تمام اقسام کے مکسڈ مصالحے شامل ہیں۔نئے قوانین کے تحت اب تمام مصالحہ جات اور بلینڈڈ مصالحے مارکیٹ میں تقسیم یا فروخت کیے جانے سے پہلے مینوفیکچرنگ کی جگہ پر ہی پیک اور سیل بند ہونا لازمی ہیں۔ایف ڈی اے کے مطابق اس اقدام کا مقصد سپلائی چین میں مصنوعات کی ٹریس ایبلٹی کو بہتر بنانا اور ملاوٹ یا آلودگی کے خطرات کو کم کرنا ہے۔ریگولیٹر نے لیبلنگ کے لیے بھی سخت تقاضے مقرر کیے ہیں، جن کے تحت پیک شدہ مصالحوں پر واضح طور پر پروڈکٹ کا نام، اجزاء، مینوفیکچرر کی معلومات، ایف ایس ایس اے آئی لائسنس نمبر، بیچ نمبر، مینوفیکچرنگ یا پیکنگ کی تاریخ، اور "بہترین استعمال” کی تاریخ سمیت دیگر لازمی اعلانات درج ہونا ضروری ہیں۔اس کے علاوہ خوراک سے وابستہ کاروباری شخصیت کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مناسب ثبوت کے بغیر اپنی مصنوعات کے خالص ہونے، نامیاتی ہونے، قدرتی اجزاء پر مشتمل ہونے یا صحت سے متعلق فوائد کے حوالے سے کسی بھی قسم کے گمراہ کن دعوے کرنے سے گریز کریں۔