بیک فٹ پر الیکشن کمیشن، گزشتہ 30 دن میں اپنے ہی کئی پرانے فیصلوں میں ترمیم کرنی پڑی!

Wait 5 sec.

الیکشن کمیشن کو ملک میں منصفانہ انتخاب کرانے والا سب سے بڑا آئینی ادارہ مانا جاتا ہے۔ لیکن جب ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے، حذف کرنے اور اعتراضات درج کرانے کے قواعد پر سوالات اٹھنے لگے تو کمیشن کے فیصلے بھی بحث کا موضوع بن جاتے ہیں۔ مغربی بنگال سے لے کر دہلی تک ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) اور دیگر کئی معاملات پر تنازعہ کے درمیان الیکشن کمیشن کو اپنے کچھ فیصلوں میں تبدیلی اور راحت دینے کی ضرورت پڑی ہے۔ایس آئی آر کے خلاف راہل گاندھی سمیت انڈیا بلاک کے 11 رہنما سپریم پہنچے کورٹ، عرضی دائر، جلد ہوگی سماعتواضح رہے کہ گزشتہ تقریباً 30 دنوں میں سامنے آئے مذکورہ واقعات نے ایک اہم سوال کھڑا کیا ہے کہ کیا کمیشن نے زمینی مشکلات اور اٹھنے والے سوالات کو دیکھتے ہوئے اپنے قدم پیچھے کھینچے ہیں؟ کہیں چھوٹے ہوئے ووٹرس کو دوبارہ موقع دیا گیا تو کہیں دعوے اور اعتراضات درج کرانے کے معاملے میں راحت کی بات سامنے آئی۔ ان تبدیلیوں کو کمیشن کی حکمت عملی میں نرمی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔مہاراشٹر ایس آئی آر: کانگریس لیڈر امین پٹیل کا کارروائی کی آخری تاریخ 31 اکتوبر تک بڑھانے کا مطالبہمغربی بنگال میں چھوٹے ہوئے ووٹرس کو نام درج کرانے کا دوبارہ موقعمغربی بنگال میں ایس آئی کے دوران ووٹر لسٹ میں نام شامل ہونے سے رہ جانے والے لوگوں کے نام جوڑنے کا سوال اہم بن گیا۔ فارم-6 کا استعمال ووٹر لسٹ میں نیا نام درج کرانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ ایسے میں جن اہل ووٹرس کے نام فہرست میں شامل نہیں ہیں ہو پائے، ان کے لیے دوبارہ درخواست دینے کا راستہ کھلنا بڑی راحت مانا گیا۔ اس سے ان لوگوں کو اپنی اہلیت کی بنیاد پر نام شامل کرانے کا موقع مل سکتا ہے، جو ایس آئی آر عمل کے دوران کسی وجہ سے چھوٹ گئے تھے۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی ہدایت پر مغربی بنگال کے تمام 24 ضلع الیکشن افسران (ڈی ای او) نے یہ یقینی بنانے کے لیے خصوصی مہم شروع کی ہے کہ کوئی بھی اہل ووٹر ووٹر لسٹ سے باہر نہ رہ جائے۔ اس کے تحت ریاست بھر میں خصوصی کیمپ لگائے جا رہے ہیں۔ ان کیمپوں کے ذریعہ ووٹرس کو فہرست میں اپنا نام چیک کرنے، ضروری معلومات حاصل کرنے اور نام سے متعلق مسائل حل کرانے میں مدد دی جا رہی ہے۔ کمیشن کی اس پہل کا مقصد ووٹر لسٹ کو زیادہ درست اور شفاف بنانا ہے، تاکہ کوئی بھی اہل شہری اپنے حق رائے دہی سے محروم نہ رہے۔مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے تحت ووٹر لسٹ سے نام ہٹانے کا معاملہ، سپریم کورٹ میں 16 اکتوبر کو سماعتدہلی میں ایس آئی آر کے دوران ووٹرس کی مدد کے لیے خصوصی کیمپ لگانے کا فیصلہدہلی میں ایس آئی آر عمل کے دوران سامنے آئی 33 لاکھ خامیوں میں سے تقریباً 20 لاکھ معاملات نمٹا دیے گئے ہیں۔ چیف الیکشن آفیسر کے مطابق ان معاملات میں ووٹرس کے ریکارڈ میں تضاد یا 2002 کی ووٹر لسٹ سے نام کی مطابقت نہ ہونے جیسے مسائل شامل تھے۔ باقی معاملات کو حل کرنے کے لیے بھی مہم جاری ہے۔ ووٹرس کی مدد کے لیے 18 اور 25 اکتوبر کو خصوصی کیمپ لگائے جائیں گے۔ کمیشن نے یقین دہانی کرائی ہے کہ کسی بھی اہل ووٹر کو فہرست سے باہر نہیں کیا جائے گا۔ شکایت ہونے پر ووٹر بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او)  یا انتخابی افسران سے رابطہ کر سکتے ہیں۔’وزیر اعظم کی باری‘: جے رام رمیش نے الیکشن کمیشن اور ایس آئی آر پر وزیر اعظم مودی کو بنایا نشانہفارم-6 کے ساتھ جوڑا گیا اضافی ڈیکلریشن فارم آن لائن پورٹل سے ہٹا دیا گیافارم-6 کو لے کر تنازعہ اس وقت بڑھ گیا جب ایس آئی آر کے دوران آن لائن درخواست کے ساتھ ایک اضافی اعلانیہ فارم یعنی ڈیکلریشن فارم جوڑ دیا گیا۔ اس میں درخواست دہندگان سے پرانی ووٹر لسٹ اور ان کے خاندان کے افراد کے ناموں سے متعلق اضافی معلومات مانگی جا رہی تھیں۔ اس انتظام پر سوال اٹھے اور معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا۔ 5 اکتوبر کو سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اس نے فارم-6 کی ترمیم شدہ شکل کو منظوری نہیں دی تھی۔ اس کے بعد کمیشن نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اصل فارم-6 میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، بلکہ ایس آئی آر کے لیے اضافی اعلانیہ فارم جوڑا گیا تھا۔ تنازعہ کے درمیان اس اضافی اعلانیہ فارم کو ان ریاستوں میں آن لائن پورٹل سے ہٹا دیا گیا، جہاں ایس آئی آر کا عمل مکمل ہو چکا تھا۔ اس سے نئے ووٹرس کے لیے معمول کے مطابق درخواست دینے کا راستہ پہلے کی طرح کھل گیا۔ یہ پیش رفت کمیشن کے لیے قانونی اور سیاسی، دونوں سطحوں پر اہم رہی۔بنگال میں ایس آئی آر اپیل پورٹل کی خامیاں بے نقاب، 11 سابق ہائی کورٹ ججوں نے الیکشن کمیشن کو گنوائیں سنگین خامیاںفارم-7 جمع کرانے کی تعداد محدود کر دی گئیفارم-7 کا استعمال ووٹر لسٹ میں کسی نام پر اعتراض درج کرانے یا نام حذف کرنے کی درخواست دینے کے لیے کیا جاتا ہے۔ پہلے اس کی تعداد پر کوئی واضح حد مقرر نہیں تھی، خاص طور پر آف لائن درخواستوں کے معاملے میں۔ اب کمیشن نے اس پر حد مقرر کر دی ہے۔ نئے قواعد کے مطابق ایس آئی آر کے دوران ایک ووٹر زیادہ سے زیادہ 10 فارم-7 جمع کر سکتا ہے، جبکہ معمول کے دنوں میں ایک ماہ کے اندر زیادہ سے زیادہ 5 فارم جمع کیے جا سکیں گے۔ اس تبدیلی کا مقصد ایک ہی شخص کی جانب سے بڑی تعداد میں درخواستیں دے کر ووٹرس کے نام حذف کرانے کی کوششوں پر روک لگانا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، نام حذف کرنے سے قبل متعلقہ افسران کو درخواست کی جانچ کرنی ہوگی اور ضرورت پڑنے پر متعلقہ ووٹر کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع بھی دینا ہوگا۔گیانیش کمار اور ایس آئی آر کے خلاف کانگریس کی ملک گیر مہم، یکم نومبر کو رام لیلا میدان میں عظیم الشان ریلینوٹس پانے والے ووٹرس کے گھر جائیں گے بی ایل اوالیکشن کمیشن نے ایس آئی آر کے دوران نام یا ریکارڈ میں خامیوں کی وجہ سے نوٹس پانے والے ووٹرس کے لیے عمل کو آسان بنانے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ 26 ستمبر کو کمیشن نے کہا کہ ایسے ووٹرس کے گھر جا کر بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او) ضروری دستاویزات جمع کریں گے اور انہیں ای سی آئی نیٹ پورٹل پر اپ لوڈ کریں گے۔ اس کے بعد معاملے پر فیصلہ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (ای آر او) کریں گے۔ ووٹرس کو ہر معاملے میں سماعت کے لیے ای آر او یا اسسٹنٹ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (اے ای آر او) کے دفتر نہیں بلایا جائے گا۔ ضرورت پڑنے پر ہی سماعت ہوگی اور اسے ترجیحی بنیاد پر آن لائن کرانے کا انتظام کیا جائے گا۔ اس سے بزرگوں، غریبوں اور ان لوگوں کو راحت مل سکتی ہے، جن کے لیے دستاویزات جمع کرانے کی خاطر بار بار سرکاری دفتر جانا مشکل ہوتا ہے۔