حوثی ملیشیا کو جرائم اور مسلسل حملوں پر جوابدہ ٹھہرانا ضروری ہے: سعودی عرب

Wait 5 sec.

ریاض (13 اکتوبر 2026): سعودی عرب کا کہنا ہے کہ کسی بھی جارحیت اور خود مختاری کو لاحق خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیرِ صدارت کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں ملکی دفاع اور قومی سلامتی کے تحفظ میں مسلح افواج کے کردار کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔کابینہ نے کہا کہ سعودی عرب خطے اور دنیا میں امن و استحکام کیلیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا، مملکت کے ہوائی اڈوں اور شہری تنصیبات پر حوثی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں، مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور حرمین شریفین کو نشانہ بنانے والے حوثی حملے ناقابل قبول ہیں، حوثی ملیشیا کو جرائم اور مسلسل حملوں پر جوابدہ ٹھہرانا ضروری ہے۔یہ بھی پڑھیں: ترکیہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے، اردوان نے واضح کر دیاسعودی کابینہ کے اجلاس میں حوثی حملوں میں جاں بحق افراد کے اہلخانہ سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلیے دعای کی گئی۔شرکا نے کہا کہ یمن میں عرب اتحاد کی فوجی کارروائیاں حوثی خطرات کے خاتمے اور علاقائی امن کے تحفظ کیلیے ہیں، ان کارروائیوں کا مقصد یمنی عوام، عالمی سلامتی اور بین الاقوامی سپلائی چین کا تحفظ بھی ہے، سعودی عرب بحیرہ احمر اور باب المندب میں آزادانہ جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دے گا، حوثی ملیشیا کے حملوں کی مذمت کرنے والے برادر اور دوست ممالک کے مؤقف کو سراہتے ہیں۔سعودی کابینہ کو دوست اور برادر ممالک کے ساتھ حالیہ مذاکرات اور ملاقاتوں پر بریفنگ دی گئی۔ کابینہ نے ان ممالک کے ساتھ تعاون، روابط اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے عزم کا اعادہ کیا۔