نئی دہلی: انڈیا بلاک اور سول سوسائٹی کے رہنماؤں نے ووٹ چوری کے الزامات اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف کارروائی کے مطالبے پر اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے مشترکہ پریس کانفرنس کی شروعات کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کی گزشتہ چار روز کی سرگرمیوں کو کامیاب قرار دیا اور کہا کہ ووٹ چوری کے مبینہ منصوبے کو بے نقاب کرنے کے لیے تمام رہنما متحد ہیں۔ اپوزیشن نے گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے اور مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں میں ملوث حکام کے خلاف فوجداری کارروائی کا مطالبہ کیا۔پریس کانفرنس میں کھڑگے نے دیگر اپوزیشن رہنماؤں کو اپنے خیالات پیش کرنے کے لیے مدعو کیا۔ اس موقع پر راشٹریہ جنتا دل کے رہنما تیجسوی یادو نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کے اشارے پر انتخابی نظام کو متاثر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے آئینی اداروں پر قبضہ کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں اور الیکشن کمیشن نے اس معاملے میں حد سے تجاوز کیا ہے۔ ان کے مطابق جمہوریت کو بچانے کے لیے اپوزیشن کو ہر ممکن قربانی دینے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے رہنما ڈی راجا نے کہا کہ ملک بھر میں لوگ چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے جنتر منتر کو احتجاج کے لیے دستیاب نہ کرانے کے فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف ظاہر کرنے کے لیے مناسب جگہ ملنی چاہیے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اپوزیشن جنتر منتر کو احتجاج کے لیے دوبارہ حاصل کرنے کی جدوجہد کرے گی۔نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کی رہنما سپریا سولے نے کہا کہ آئین اور اس کے تحت شہریوں کو دیے گئے حقوق خطرے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انڈیا بلاک کی تمام جماعتیں ناانصافی کے خلاف مل کر لڑتی رہیں گی۔ سماجوادی پارٹی کے رہنما ہرندر ملک نے کہا کہ ان کی جماعت انڈیا بلاک کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ آئینی اداروں پر قبضہ کرکے انتخابی عمل کو متاثر کیا گیا اور ووٹ چوری کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن آخری دم تک انصاف کی لڑائی لڑے گی۔سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے الزام لگایا کہ احتجاجی تحریک کو دبانے کے لیے دہلی میں سخت اقدامات کیے گئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ احتجاج کے دوران نیم فوجی دستے تعینات کیے گئے اور نقل و حرکت سمیت متعدد سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ ان کے مطابق احتجاج کرنا شہریوں کا آئینی حق ہے اور اس حق کو محدود نہیں کیا جانا چاہیے۔ترنمول کانگریس کی رہنما ساگریکا گھوش نے چیف الیکشن کمشنر کی برطرفی، انتخابی بے ضابطگیوں کی تحقیقات اور متعلقہ حکام کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل کو روکنے اور پرانی انتخابی فہرستوں کی طرف واپس جانے کی بھی اپیل کی۔ ان کا الزام تھا کہ اس عمل کا استعمال ووٹروں کے نام حذف کرنے اور انتخابی نتائج کو متاثر کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔پریس کانفرنس میں شیوسینا، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کے علاوہ طلبہ اور نوجوانوں کے نمائندوں نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ ووٹروں کے حقوق اور جمہوری نظام کے تحفظ کے لیے احتجاج کو دہلی سے باہر ملک کے مختلف حصوں تک پھیلایا جائے گا۔انہوں نے کسانوں، مزدوروں، طلبہ تنظیموں اور سول سوسائٹی سے بھی اس مہم میں شامل ہونے کی اپیل کی۔ اپوزیشن رہنماؤں نے واضح کیا کہ ووٹ چوری کے خلاف مہم اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت اور آئین کے تحفظ کے لیے تمام جماعتیں متحد ہو کر جدوجہد کریں گی۔