اجے دیوگن کے بنگلے پر بی ایم سی کی کارروائی، بغیر اجازت ہونے والی تعمیر کو کیا منہدم

Wait 5 sec.

بالی ووڈ اداکار اجے دیوگن سرخیوں میں ہیں۔ ممبئی کے جوہو میں واقع ان کے بنگلے پر بی ایم سی نے انہدامی کارروائی انجام دی ہے۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) نے اجے دیوگن کے اس بنگلے میں کی جا رہی غیر قانونی تعمیر کے خلاف سخت قدم اٹھاتے ہوئے انہدامی کارروائی کی ہے۔ دراصل میونسپل کارپوریشن نے بنگلے کے کچھ حصوں کو منہدم کر دیا ہے۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن ایکٹ کی دفعہ 354 اے کے تحت نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی تعمیراتی کام روکنے اور ضروری دستاویزات پیش کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ حالانکہ نوٹس کے باوجود تعمیراتی کام جاری رہا، جس کے بعد میونسپل کارپوریشن نے تعمیر کے کچھ حصوں کو منہدم کر دیا۔The Brihanmumbai Municipal Corporation (BMC) has taken action against alleged unauthorized construction at actor Ajay Devgn’s bungalow in Juhu. The municipal corporation has demolished certain portions of the bungalow.(Pics: BMC) https://t.co/dR0PMO2teA pic.twitter.com/TXbyUEtSkW— ANI (@ANI) October 17, 2026اجے دیوگن کا یہ بنگلہ جوہو کی ’کپول کوآپریٹیو ہاؤسنگ سوسائٹی‘ میں واقع ہے۔ اس کا رقبہ تقریباً 7802  مربع فٹ ہے۔ دیوگن خاندان نے اگست 2026 میں یہ بنگلہ ’فلورین ہیوریل سیلون پرائیویٹ لمیٹڈ‘ کو 5 سال کے لیے 10.61 کروڑ روپے کے لیز پر دیا تھا۔ اس کا ابتدائی کرایہ 16 لاکھ روپے ماہانہ طے کیا گیا تھا۔ سیلون اور تجارتی استعمال کے لیے بنگلے کے اندر بغیر اجازت تعمیراتی کام کیا جا رہا تھا۔ بی ایم سی کے بلڈنگ پروپوزل ڈپارٹمنٹ سے ضروری منظوری بھی نہیں لی گئی تھی۔ اس کے باوجود اندرونی دیواروں، کھڑکیوں اور دیگر حصوں میں تبدیلیوں کا کام جاری رہا۔ وہیں سیلون یا اس جگہ پر اندرونی کام کرنے کے لیے بھی کوئی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ اسی لیے دو روز قبل اسے منہدم کرنے کی کارروائی کی گئی۔شاہ رخ خان، اجے دیوگن اور ٹائیگر شراف کی مشکلات میں اضافہ، ’وِمل الائچی‘ اشتہار پر ایف ڈی اے کا شوکاز نوٹسدراصل جوہو میں واقع بنگلے کے مالک یا وہاں رہنے والوں کو فوری طور پر کام روکنے اور 24 گھنٹے کے اندر متعلقہ اتھارٹی سے ضروری منظوری کے دستاویزات جمع کرانے کی ہدایت دی گئی تھی۔ نوٹس میں کہا گیا تھا کہ بغیر اجازت تعمیراتی کام سیپوریكس بلاک سے متعلق کاموں کے تحت کیا جا رہا ہے۔ دیوگن خاندان نے فلورین ہیوریل سیلون پرائیویٹ لمیٹڈ کو بنگلہ لیز پر دینے کے لیے نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) طلب کیا تھا۔ وہیں سوسائٹی سے وابستہ اس وقت کے مجاز افسر کے 22 جولائی 2026 کے ایک خط میں اس بات کی تصدیق کی گئی تھی کہ وینا ویریندر دیوگن اور اجے دیوگن اس جائیداد کے رکن اور قانونی مالک تھے، اور سوسائٹی کو اسے لیز پر دیے جانے پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔