تہران: ایرانی نائب وزیر خارجہ خطیب زادہ نے کہا ہے کہ سعودی عرب نے یمن کے معاملے پر ایران کی جانب سے مسائل کے پُرامن حل کے لیے کی جانے والی کوششوں کا تاحال کوئی جواب نہیں دیا۔ ایران نے سعودی عرب اور یمن کے درمیان اختلافات کے حل میں مدد دینے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیش کش کی ہے۔ایران کی ثالثی پیش کش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب اور یمن کے حوثی باغیوں کے درمیان کشیدگی میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے۔ حالیہ دنوں میں حوثیوں کے حملوں کے بعد سعودی عرب میں اہم تنصیبات اور ریاض کے ہوائی اڈے کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔دوسری جانب سعودی نائب وزیر خارجہ نے گزشتہ روز کہا ہے کہ ریاض نے حوثیوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے عمان میں ملاقات کی تجویز دی تھی، لیکن حوثیوں نے اس میں شرکت نہیں کی۔ سعودی عرب نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس نے حوثیوں کے ساتھ ثالثی کے لیے ایران سے درخواست نہیں کی اور اس گروہ کے ساتھ اس کے براہِ راست رابطے موجود ہیں۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران تنازعات کے خاتمے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو ہمیشہ تیار رہا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ 12 برس کے واقعات نے ثابت کیا ہے کہ یمن کے بحران کا حل بیرونی مداخلت یا عسکری طریقۂ کار میں نہیں، بلکہ سیاسی اور پُرامن کوششوں میں ہے۔ایئر انڈیا نے سعودی عرب کیلئے تمام پروازیں منسوخ کردیںبقائی نے کہا کہ یمنی عوام ایک دہائی سے زائد عرصے سے فضائی اور بحری ناکہ بندی کے نتائج بھگت رہے ہیں۔ برطانیہ اور امریکا سمیت بیرونی عناصر کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں اور محاصرے کی مشکلات یمنی عوام نے صبر کے ساتھ برداشت کی ہیں۔ انھوں نے خطے کے ممالک اور عالمِ اسلام پر زور دیا کہ وہ یمن کی صورتِ حال کے خاتمے کے لیے مشترکہ اور ٹھوس اقدامات کریں۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے یمنی مسلح افواج کی کارروائیوں میں ایران کے کردار سے متعلق دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یمنی افواج اپنے مفادات کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہیں۔ ان کے بقول، ایران اور اس کے اتحادیوں کے تعلقات سے واقف افراد ان دعوؤں کو قابلِ یقین نہیں سمجھتے۔بقائی نے یمن کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ یمن کے داخلی معاملات میں مداخلت بند کی جائے اور اس پر عائد فضائی و بحری ناکہ بندی ختم کی جائے۔ایرانی ترجمان نے کہا کہ خطے میں کشیدگی میں اضافہ کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں۔ انھوں نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملے کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی بھی قرار دیا۔