واشنگٹن: امریکی اور مغربی عہدیداروں کے مطابق یوکرین کی فوج کے لیے اسپیس ایکس کے سیٹلائٹ نظام اسٹارشیلڈ کی خدمات محدود کرنے کا حکم وائٹ ہاؤس کے اندر سے دیا گیا تھا، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاملے میں اپنی انتظامیہ کے ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نہ انھوں نے اور نہ ہی ان کے خیال میں ایلون مسک نے یہ اقدام کیا۔روئٹرز نے 15 اکتوبر کو دو امریکی عہدیداروں اور اس معاملے پر بریفنگ حاصل کرنے والے ایک مغربی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ محکمۂ دفاع کے اعلیٰ حکام کو پیغام دیا گیا تھا کہ یوکرینی فوج کے لیے اسپیس ایکس کی اسٹارشیلڈ سروس کی رفتار یا فعالیت محدود کی جائے۔ ذرائع نے یہ نہیں بتایا کہ وائٹ ہاؤس میں یہ فیصلہ کس نے کیا یا اس پر عمل درآمد کی ذمہ داری کس کی تھی۔اسٹارشیلڈ، اسپیس ایکس کی اسٹارلنک سیٹلائٹ سروس کا فوجی مقاصد کے لیے تیار کردہ ورژن ہے اور اس کا کنٹرول امریکی حکومت کے پاس ہے۔ پینٹاگون اس کا سب سے بڑا صارف ہے۔روئٹرز کے مطابق، یوکرینی عہدیداروں نے بتایا کہ فوجی معیار کے اسٹارلنک ریسیورز تیز رفتار حرکت کرنے والی اشیا پر نصب ہونے کی صورت میں کام کرنا بند کر گئے تھے، جس سے ان ڈرونز کی کارکردگی متاثر ہوئی جو پرواز کے دوران سمت شناسی اور رہنمائی کے لیے ان پر انحصار کرتے ہیں۔ یوکرین کی وزارتِ دفاع کے ایک اہلکار نے جمعرات کو بتایا کہ یہ ریسیورز حرکت کے دوران دوبارہ کام کرنے لگے ہیں، تاہم ان کی کارکردگی 100 میل فی گھنٹہ، یعنی تقریباً 160 کلومیٹر فی گھنٹہ، تک کی رفتار پر محدود ہے۔اسٹارشیلڈ سروسز متاثر ہونے کا نتیجہ کیا نکلا؟پابندیوں کے باعث روسی فوج اور مقبوضہ علاقوں میں اس کی رسدی تنصیبات کے خلاف یوکرین کے حملوں میں مشکلات پیدا ہوئیں، جب کہ روسی شاہد ڈرونز کو مار گرانے کے لیے استعمال ہونے والے یوکرینی دفاعی ڈرونز کی رفتار اور کارکردگی بھی متاثر ہوئی۔امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے 16 اکتوبر کی رپورٹ میں بتایا کہ ان پابندیوں کے باعث یوکرینی فوج کی روسی حملہ آور ڈرونز کو روکنے کی صلاحیت تقریباً 24 گھنٹوں تک متاثر رہی۔روسی حملوں میں یوکرین کے 8 افراد ہلاک، 10 لاکھ سے زائد افراد کی بجلی منقطعتاہم صدر ٹرمپ نے جمعے کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’’میں نے آج صبح ہی اس معاملے کی جانچ کی ہے، یہ ہم نے نہیں کیا۔ مجھے نہیں معلوم کہ کسی اور نے ایسا کیا بھی ہے یا نہیں، کیوں کہ یہ نہ میں نے کیا اور نہ ہی میرا خیال ہے کہ ایلون نے کیا ہوگا۔‘‘ایکسیوس کے مطابق، ٹرمپ روئٹرز کی اس رپورٹ سے متعلق سوال کا جواب دے رہے تھے جس میں کہا گیا تھا کہ سیٹلائٹ نظام کی خدمات محدود کرنے کا حکم وائٹ ہاؤس سے آیا تھا۔ ٹرمپ نے اس معاملے میں اپنی انتظامیہ کے کردار کی تردید کی، جب کہ یوکرینی حکام نے ان کے بیان پر شکوک کا اظہار کیا۔ایک یوکرینی عہدیدار نے ایکسیوس کو بتایا ’’اسپیس ایکس سے رابطے میں رہنے والے ہمارے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس اس فیصلے میں ملوث تھا۔‘‘روئٹرز کے مطابق، ایک سینئر امریکی عہدیدار نے بھی واضح کیا کہ صدر نے اسٹارشیلڈ کی خدمات محدود کرنے کی کوئی درخواست نہیں کی تھی۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ آیا انتظامیہ کے کسی دوسرے عہدیدار نے ایسا حکم دیا تھا۔ محکمۂ دفاع، اسپیس ایکس اور واشنگٹن میں یوکرینی سفارت خانے نے بھی روئٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے بدھ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا تھا کہ اسٹارشیلڈ نظام امریکی حکومت کی ملکیت اور اسی کے کنٹرول میں ہیں، اس لیے ان کی رفتار یا استعمال پر پابندیوں کا فیصلہ امریکی فوج اور بالآخر صدرِ امریکا کرتے ہیں۔اسٹارلنک اور اسٹارشیلڈ کا کرداریوکرین اپنی فوجی کارروائیوں میں 2 سیٹلائٹ نظاموں پر انحصار کرتا ہے۔ اسٹارلنک کو فوجی دستوں کے درمیان رابطوں، رسد، انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے اور دفاعی ڈرونز چلانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جب کہ امریکی حکومت کے زیرِ کنٹرول اسٹارشیلڈ جارحانہ فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یوکرینی حکام کے مطابق، دونوں نظاموں پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔جب یہ نظام پوری صلاحیت سے کام نہیں کرتے تو یوکرین کی جاسوسی، روسی حملہ آور ڈرونز کو روکنے اور روسی اہداف پر طویل فاصلے سے حملے کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔امریکا اور یوکرین کے تعلقات میں کشیدگیسیٹلائٹ نظام کی خدمات محدود کیے جانے کا معاملہ ایسے وقت سامنے آیا جب روسی تیل کی فروخت اور روس کے ساتھ ڈیزل کے معاہدے پر امریکا اور یوکرین کے تعلقات میں کشیدگی بڑھ رہی تھی۔روئٹرز کے مطابق، صدر ٹرمپ یوکرین پر زور دے رہے تھے کہ وہ روس کی تیل صاف کرنے والی تنصیبات پر حملے بند کرے۔ ٹرمپ نے توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا ذمہ دار بھی ان حملوں کو ٹھہرایا تھا، جب کہ ماہرین کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ تھی، جس کے نتیجے میں توانائی کی تنصیبات پر ایرانی حملے ہوئے اور آبنائے ہرمز بڑی حد تک بند ہو گئی۔9 اکتوبر کو میامی میں ہونے والی ایک ملاقات میں امریکی نمائندوں نے یوکرینی حکام کو بتایا تھا کہ واشنگٹن، روسی تیل صاف کرنے والی تنصیبات پر یوکرین کے مسلسل حملوں سے ناخوش ہے۔ امریکی وفد نے روس کے ساتھ ڈیزل کے معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ واشنگٹن کو امید ہے کہ اس سے ماسکو کا امن مذاکرات کے بارے میں مؤقف نرم ہوگا۔اس معاہدے کے تحت روس امریکا اور عالمی منڈیوں کو 22 لاکھ 50 ہزار بیرل سے زیادہ ڈیزل فراہم کرے گا۔ اس فیصلے پر بعض امریکی قانون سازوں نے تنقید کی ہے کہ اس سے روس کو جنگ جاری رکھنے کے لیے مالی وسائل مل سکتے ہیں۔بعد ازاں یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے روس کے ساتھ ڈیزل کے معاہدے کو کمزور فیصلہ قرار دیا، جس پر ٹرمپ نے یوکرین میں نئے صدارتی انتخابات کرانے اور زیلنسکی کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔اس صورتِ حال میں سیٹلائٹ نظام کی سروسز محدود کیے جانے نے یوکرین کے اس خدشے کو مزید بڑھا دیا ہے کہ امریکا کے زیرِ کنٹرول اہم فوجی ٹیکنالوجی تک رسائی سیاسی اختلافات کے باعث متاثر ہو سکتی ہے۔