کیف: جمعہ کو یوکرین بھر میں روسی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 8 افراد ہلاک اور 60 زخمی ہو گئے۔ حملوں میں دو شاپنگ سینٹرز کو نشانہ بنایا گیا، جب کہ توانائی کے نظام پر حملوں کے باعث 10 لاکھ سے زائد افراد کی بجلی منقطع ہو گئی۔روئٹرز کے مطابق یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ مشرقی شہر خارکیف کے تین اضلاع پر حملوں میں 71 سالہ خاتون اور 58 سالہ شخص ہلاک، جب کہ مزید 12 افراد زخمی ہوئے، شام کے وقت روس کے مزید حملوں میں 9 افراد زخمی ہوئے۔دونیتسک کے علاقے میں محاذِ جنگ کے قریب واقع شہر کراماتورسک پر حملوں میں 2 افراد ہلاک ہوئے، جب کہ جنوب مشرقی علاقے دنیپروپیٹرووسک میں بھی 2 افراد جان سے گئے۔یوکرین کی وزارتِ توانائی نے بتایا کہ روسی حملوں کے باعث جمعے کو بجلی سے محروم ہونے والے ایک لاکھ سے زائد افراد کی بجلی بحال کر دی گئی ہے۔ تاہم، یہ واضح نہیں کہ اب بھی کتنے افراد بجلی سے محروم ہیں۔نئے قانون کے تحت اہم پابندیوں اور ٹیرف کے نفاذ سے قبل ٹرمپ نے روس کو استثنا دے دیاگورنر وولین رومان رومانیوک نے ایک بیان میں بتایا کہ روسی ڈرون سے غیر ملکی سرمایہ کاری والے ادارے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ پولینڈ کی سرحد سے متصل شمال مغربی علاقے وولین میں خوراک کی پراسیسنگ کے ایک کارخانے پر ڈرون حملے میں ایک شخص ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے۔وولین کے علاقائی دارالحکومت لوتسک کے میئر آندری رازوموسکی نے فیس بک پر بتایا کہ شہر میں بجلی کی بندش کم از کم 24 گھنٹے جاری رہ سکتی ہے۔ رومانویوک کے مطابق، دن بھر ڈرون حملے جاری رہے۔ ان حملوں میں کوویل شہر کے ایک کسٹمز ٹرمینل کو نشانہ بنایا گیا اور تقریباً 10 ٹرکوں میں آگ لگ گئی۔ کوویل، کیف سے پولینڈ جانے والی ایک اہم شاہراہ پر واقع ہے۔حکام نے بتایا کہ روسی حملوں میں کم از کم دو شاپنگ سینٹرز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان میں ایک محاذِ جنگ کے قریب شمالی شہر سومی میں، جب کہ دوسرا پڑوسی علاقے ریونے میں واقع ہے۔