جنتر منتر پر صرف 3000 لوگوں کی موجودگی سے ہو جاتی تھی بھیڑ، رام لیلا میدان میں 1.5 لاکھ لوگوں کی پڑے گی ضرورت!

Wait 5 sec.

جنتر منتر پر احتجاجی مظاہروں کے حوالے سے وزارت داخلہ نے بڑا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت داخلہ کے ذریعہ جنتر منتر کو احتجاج کے لیے مقررہ مقام کی فہرست سے ہٹا دیا گیا ہے۔ احتجاج کے لیے 3 نئی جگہیں مقرر کی گئی ہیں، جن میں رام لیلا میدان، بُراڑی میدان اور سی بی ڈی میدان (مشرقی دہلی) شامل ہیں۔ ایسے میں ان تینوں مقامات پر احتجاج کرنے اور اسے بڑا دکھانے کے لیے بڑی تعداد میں لوگوں کی ضرورت ہوگی۔جنتر منتر کو احتجاجی مقام سے ہٹائے جانے کی تمام عرضیوں پر 15 اکتوبر کو سپریم کورٹ میں ہوگی سماعتجنتر منتر میں بھیڑ دکھانے کے لیے صرف 3 ہزار مظاہرین کی ضرورت تھی، لیکن اب رام لیلا میدان میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ اور بُراڑی میں 80 ہزار لوگوں کی تعداد ہو تبھی بھیڑ نظر آئے گی۔ جس طرح جنتر منتر پر صرف 3 ہزار کی بھیڑ جمع کرنے کے بعد چاروں طرف کے راستے بھر جایا کرتے تھے، لیکن 3 نئی جگہوں پر ایسا کرنا آسان نہیں ہے۔ دوسری بات یہ بھی ہے کہ دہلی کے رام لیلا میدان میں احتجاج کرنا مہنگا بھی ثابت ہوگا۔ دراصل رام لیلا میدان کو بک کرنے کے لیے تقریباً ایک لاکھ 21 ہزار روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ دوسری جانب آئندہ ڈھائی ماہ تک میدان پوری طرح بک ہے۔ اس کے علاوہ رام لیلا میدان میں احتجاج کرنے کے لیے ایم سی ڈی کی اجازت تو ضروری ہے ہی لیکن دہلی پولیس سے این او سی بھی لینا ضروری ہے۔دہلی: جنتر منتر پر اب نہیں دے پائیں گے ’دھرنا‘، احتجاج کے لیے 3 متبادل مقامات مقررواضح رہے کہ حکومت کی جانب سے مظاہرے کے لیے مقرر کی گئی 3 نئی جگہیں پارلیمنٹ ہاؤس سے کافی دور ہیں۔ جبکہ جنتر منتر سے پارلیمنٹ ہاؤس صرف 2 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، جہاں سے مظاہرین آسانی سے پارلیمنٹ تک پہنچ سکتے تھے۔ دوسری جانب پارلیمنٹ سے رام لیلا میدان 6 کلومیٹر دور ہے، بُراڑی کا میدان تقریباً 23 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے اور شاہدرہ کا سی بی ڈی میدان 14 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ دہلی پولیس کا منصوبہ ہے مظاہرین کو پارلیمنٹ کے دائرے سے دور رکھنا۔ اگر رام لیلا میدان، بُراڑی یا شاہدرہ میں احتجاج ہوتا ہے تو اس کا دہلی اور حکومت پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔ ان جگہوں پر کسی بھی احتجاج کو طویل عرصے تک جاری رکھنا کسی نہ کسی طرح مشکل ہوگا اور یہاں بڑی تعداد میں لوگوں کے جمع ہونے کی امید بھی کم ہے۔